صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”صَبْر اور سخاوت (1)ایمان ہے۔“(2)
(4)…اَلصَّبْرُ کَنْزٌ مِّنْ کُنُوْزِالْجَـنَّةِ یعنی صبر جنَّت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔(3)
(5)…ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا گیا: ”ایمان کیا ہے؟“ ارشاد فرمایا:”صبر۔“ (4)
یہ فرمان آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان کے مشابہ ہے:”اَلْحَجُّ عَرَفَة یعنی حج وقوفِ عرفہ ہے۔ “(5)
(6)…اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ مَا اُکْرِھَتْ عَلَیْہِ النُّفُوْس یعنی افضل عمل وہ ہے جس پر نفس کو مجبورکیا جائے۔(6)
منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ میری صفات اپناؤ! میری صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں صَبُور ہوں۔(7)
(7)…سرکارِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب انصار کے پاس تشریف لائے تو ارشاد فرمایا:” کیا تم مسلمان ہو؟“ سب خاموش رہے، حضرت سیِّدُنا عُمَر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی موجود تھے انہوں نے عرض کی:جی یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ارشاد فرمایا:”تمہارے ایمان کی نشانی کیا ہے؟ ‘‘ صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:ہم خوش حالی پر شکر ادا کرتے، مصیبت پر صبر کرتے اور حکْمِ خداوندی پر راضی رہتے ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ربِّ کعبہ کی قسم! تم مومن ہو۔“(8)
(8)…بُری بات پر صبر کرنا خیرِکثیر ہے۔(9)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہاں صبر سے مراداللہ عَزَّ وَجَلَّکی حرام کردہ اشیاء سے صبر کرنا (یعنی باز رہنا) اورسخاوت سےمراد خوب فرائض کی ادائیگی ہے۔ (فیض القدیر،۳/ ۲۴۳،تحت الحدیث:۳۰۹۹)
2… مسند ابی یعلی، مسند جابر،۲ /۲۲۰،حدیث : ۱۸۴۹
3… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الصبر،۴/ ۲۴،حدیث:۱۶،بتغیر، قول حسن بصری
4… المسندللامام احمد بن حنبل، حدیث عمروبن عبسة ،۷/ ۱۱۱، حدیث : ۱۹۴۵۲
5… سنن ابن ماجہ، کتاب ا لمناسک ، باب من اتی عرفة قبل الفجر ،۳/ ۴۶۹، حدیث : ۳۰۱۵
6… ذم الھوی ، الباب الثالث ، الرقم: ۱۴۸، ص ۵۶،قول عمربن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ
7… الرسالة القشيرية،باب الصبر،ص۲۲۱
8… المعجم الاوسط ،۶/ ۴۶۷، حدیث : ۹۴۲۷،بتغیر
9… المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند عبداللّٰه بن عباس،۱/ ۶۵۹،حدیث : ۲۸۰۴