(8)… اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۷﴾ (پ۲، البقرة:۱۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان: یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درودیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔
ہدایت، رحمت اور دُرُودیہ سب صبروالوں کے لئے ہیں۔ طوالت سے بچتے ہوئے ہم نے صبر کے متعلق چند آیات ہی ذکر کی ہیں۔
صبر کی فضیلت پرمشتمل نوروایات:
(1)…”اَلصَّبْرُ نِصْفُ الْاِیْمَان یعنی صبر نصف ایمان ہے۔“(1)اس کی وجہ اگلی حدیْثِ مبارک میں بیان کی گئی ہے۔
(2)…یقین اور صبر ان چیزوں میں سے ہیں جو بہت تھوڑی مقدار میں تمہیں عطا کی گئیں اور جسے ان میں سے کچھ حصہ مل جائے پھر اگروہ رات قیام اور دن روزے کی حالت میں نہ بھی گزارے تو کچھ حرج نہیں۔ تمہیں جو بھی معاملہ درپیش ہواس پر ضرور صبر کرویہ مجھے اس سے بھی زیادہ محبوب ہے کہ تم میں سے ہرایک تمام لوگوں کے اعمال برابر اعمال لے کر میرے پاس آئے۔البتہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد دنیا تم پر کھول دی جائے گی، تم میں سے ایک دوسرے کو کم تر جانے گا، اس وقت آسمان والے تمہیں بُرا جانیں گے۔جس نے ایسے وقت میں صبر کا دامن تھامےرکھا وہ ثواب پانے میں کامیاب ہوگیا۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: (2)
مَا عِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہِ بَاقٍ ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا (پ۱۴، النحل:۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان: جو تمہارے پاس ہے ہوچکے گا اور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والا ہے اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے(جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو)۔
(3)…ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ،فیض گنجینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایمان کے متعلق سوال ہوا تو آپ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… شعب الایمان ، باب فی الصبر علی المصائب،۷/ ۱۲۳، حدیث:۹۷۱۶
2… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون شرح مقامات الیقین واحوال الموقنین ،۱/ ۳۲۶