Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
184 - 882
 حقیقت جاننے سے منہ موڑلینا ہے۔ ان  دونوں کے لئے وضاحت وبیان کی حاجت ہے اور ان کا باہم گہرا تعلق ہے، لہٰذا ہم انہیں ایک ہی جگہ دو حصوں میں بیان کریں گے۔
پہلا حصہ:					صَبْر
	اس حصے میں صبر کی فضیلت، اس کی تعریف وحقیقت،اس کا نصف ایمان ہونا،مُتَعَلِّقات کے اختلاف سے اس کے مختلف نام،قوت و ضعف کے اعتبار سے اس کی اقسام،صبر کی طرف محتاجی کی حالتیں اور  مواقع نیز  اس کی دوا اور ان چیزوں کا بیان ہوگا جن کے ذریعہ اس پر مدد حاصل کی جائے۔ یہ تمام چیزیں سات فصلوں میں بیان کی جائیں گی۔
پہلی فصل:				صَبْر کی فضیلت
	صبروالوں کی صفات اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بیان فرمائیں اور قرآن پاک میں70سے زائدمرتبہ اس کا ذکر فرمایااوراکثر دَرَجات و بھلائیوں کو اسی کی طرف منسوب کیا اور اس کاپھل قرار دیا۔
صبر کے فضائل پر مشتمل آٹھ آیاتِ مُبارَکہ:
(1)…  وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہۡدُوۡنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوۡا ۟ؕ (پ۲۱، السجدة : ۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا۔
(2)… وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیۡۤ اِسْرٰٓءِیۡلَ ۬ۙ بِمَا صَبَرُوۡا ؕ (پ۹، الاعراف :۱۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پرپورا ہوا بدلہ اُن کے صبر کا۔
(3)… وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجْرَہُمۡ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ (پ۱۴، النحل:۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم صبرکرنے والوں کو ان کا  وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو۔