Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
183 - 882
صَبْر و شُکْر کا بیان
	تمام تعریفیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے جوحمدو ثنا کا اہل،کبریائی میں یکتا،بلندی وبزرگی میں منفردہے اور خوشی ونقصان میں صبر اورمصیبتوں اورنعمتوں پر شکر کے ذریعےگروہِ اولیا کی تائید ونصرت فرمانے والاہے۔ فناسے پاک اور ناختم ہونے والا درود ہمیشہ اور باربار نازل ہو سردارِ انبیا حضرت سیِّدُنا محمدمصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اورآپ کے اصحاب پر جوکہ اصفیا کے سردار ہیں  اور آپ کی آل پر جو کہ  متقین کی قائد ہے۔
	بے شک ایمان کے دو حصے ہیں:(۱)…صبر		(۲)…شکر
	جیساکہ اس پر رِوایات واَحاديث گواہ ہیں۔(1) یہ دونوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دوصِفات اوردو اسما سے ماخوذہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے خود کوصبُور(2) اورشکور(3)ارشاد فرمایا ہے۔صبر وشکر کو نہ جاننا ایمان کے دوحصوں اور رحمٰن عَزَّ  وَجَلَّ کی دوصفات سےغافل ہوناہے اورایمان کے بغیرقُربِ الٰہی حاصل کرنےکا کوئی راستہ نہیں۔ جس ذات پر ایمان لانا ہے اور جو چیزیں ایمان کا حصہ ہیں ان کی مَعْرِفَت کے بغیر ایمان کے راستے پر چلنے کا تَصَوُّر بھی کیسے کیا جاسکتا ہے؟اور صبر وشکر کوجاننے کی کوشش نہ کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت اور ایمان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان، باب فی الصبر علی المصائب،۷/ ۱۲۳، حدیث : ۹۷۱۵
2… مُفَسِّر شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان’’صبور‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ332پرفرماتے ہیں :”صبُورصبرسے بنابمعنی روکنا، ٹھہرنا، اگر یہ بندے کی صفت ہو تو اس کے معنٰے ہوتے ہیں گھبراہٹ سے اپنے کو روکنا اگر رب تعالیٰ کی صِفَت ہو تو معنٰے ہوتے ہیں مجرموں کے عذاب میں جلدی نہ فرمانا وقت سے پہلے کوئی کام نہ کرنا صبُور وہ جو جلدی نہیں مگر دیر سے سزا دے حلیم وہ جو کبھی سزا نہ دے رب تعالیٰ کفار کے لیے صبُور ہے اور گنہگار مومن کے لیے حلیم ہے، کریم ہے، رحیم ہے۔“
3… مُفَسِّر شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان’’شکور‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ328پرفرماتے ہیں :”شکر جب بندے کی صِفَت ہو تو اس کے معنے ہیں انعام پا کر مُنعم کی حمد و ثناء بجالانا اور جب رب تعالیٰ کی صِفَت ہو تو معنٰے ہوتے ہیں تھوڑے  عمل پر بہت فضل فرمانا جس کا ترجمہ قدردان بہت مناسب ہے کہ وہ کریم نہ بندہ کے لائق جزاء دیتا ہے نہ اس کے کام کے لائق بلکہ اپنی شان کے لائق دیتا ہے ایک نیکی پر ہزاروں جزائیں ایک نماز پر وضو کرنے کی جزاء علیٰحدہ مسجد کے ہر قدم کی جزاء علیحدہ پھر مسجد میں آکر انتطارِنماز کی جزاء علیحدہ رکوع کی سجود کی قرات و تسبیح کی جزاء علیحدہ بعدِنماز دعا مانگنے کی جزائیں علیحدہ علیحدہ غرض اس کی عطا کا شمار نہیں، ہر عبادت کا یہ ہی حال ہے۔“