بارے میں بتائیے کہ اس کی بنیاد کیا ہے؟“ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:”کفر کے بنیادی ستون چار ہیں:(۱)جفا (۲)اندھا پن (۳)غفلت اور (۴)شک۔
جو شخص جفا کرتا ہے وہ حق کو حقیر جانتا ہے اور باطل کو ظاہر کرتا ہے اور علما سے بغض رکھتا ہے اور جو (دل کا) اندھا ہوتا ہے وہ ذکر کو بھول جاتا ہے اور غافل اور گمراہ ہوجاتا ہے اور شک کرنے والا آرزوؤں کے دھوکے میں رہتا ہے اور اسے حسرت وندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے وہ کچھ ظاہر ہوتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
جو کچھ ہم نے بیان کیا یہ (آخرت کے متعلق) غور وفکر سے غفلت برتنے کی چند آفات ہیں اور یہاں اتنا ہی کافی ہے اور صبر چونکہ دوام توبہ کا ایک رکن ہے تو اس کا بیان بھی ضروری ہے، لہٰذا اس کے متعلق ہم علیحدہ طور پر باب باندھیں گے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم سے’’توبہ کابیان‘‘مکمل ہوا
٭…٭…٭…٭…٭…٭
عذابات کانقشہ
شیخ طریقت،امیراہلسنت، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطاؔرقادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مشہورِزمانہ1548صفحات پرمشتمل تالیف’’فیضانِ سُنَّت‘‘جلداول کے صفحہ405پرہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یادرکھئے!زکوٰۃ اداکرنے کے جہاں بے شمار ثوابات ہیں نہ دینے والے کے لئے وہاں خوفناک عذابات بھی ہیں۔چنانچہ میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنقرآن وحدیث میں بیان کردہ عذابات کانقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں:خلاصہ یہ ہے کہ جس سونے چاندی کی زکوٰۃ نہ دی جائے، روزِ قیامت جہنم کی آگ میں تپاکراُس سے اُن کی پیشانیاں، کروٹیں، پیٹھیں داغی جائیں گی۔ان کے سر،پستان پرجہنم کا گرم پتّھررکھیں گے کہ چھاتی توڑکرشانے سے نکل جائے گا اور شانے کی ہڈّی پررکھیں گے کہ ہڈّیاں توڑتاسینے سے نکل آئے گا،پیٹھ توڑکرکمرسے نکلے گا،گُدّی توڑکرپیشانی سے اُبھرے گا۔جس مال کی زکوٰۃ نہ دی جائے گی روزِقیامت پرانہ خبیث خونخواراژدہابن کراس کے پیچھے دوڑے گا،یہ ہاتھ سے روکے گا،وہ ہاتھ چبالے گا،پھرگلے میں طوق بن کرپڑے گا،اس کامنہ اپنے منہ میں لے کرچبائے گاکہ میں ہوں تیرامال،میں ہوں تیراخزانہ۔پھراس کاسارابدن چباڈالے گا۔وَالْعِیَاذُبِاللہ رَبِّ الْعٰلَمِیْن (فتاوٰی رضویہ مخرجہ ،۱۰/ ۱۵۳،رضافاؤنڈیشن لاہور)