Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
181 - 882
 جب موت واقع ہوگی تو اس کی سختیوں پر کیسے صبر کرے گا جبکہ تیرا حال تو یہ ہے کہ موت اور اس کے بعد کے تصور پر ہی صبر نہیں کرپاتا۔
٭…آخرت کے متعلق غور وفکر سے مانع دنیوی لذات کا جہاں تک تعلق ہے اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ آخرت کی لذات کا فوت ہونا زیادہ سخت اور بڑا نقصان ہے کیونکہ اس کی کوئی انتہا نہیں اور نہ ہی اس میں کوئی کدورت ہے جبکہ دنیوی لذات جلد ختم ہونے والی اور کَدُورتوں سے بھری ہوئی ہیں، ان میں کوئی لذت گدلے پن سے خالی نہیں۔ دنیا کی لذات اعلیٰ ہو بھی کیسے سکتی ہیں کہ گناہوں سے توبہ کرکے اور اطاعت الٰہی میں مصروف رہ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مناجات کرنے میں بہت لذت ہے اور معرفت واطاعت الٰہی اور اس کی ذات سے اُنسیت کے سبب راحت حاصل ہوتی ہے۔ بالفرض اگر اطاعت کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا عبادت کی حلاوت اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مناجات کے اُنس کی روح کے علاوہ کچھ نہ ملے توبھی یہ اس کے لئے کافی ہے تو کیا لطف ہوگا جب اسے راحت واُنس کے ساتھ ساتھ آخرت کی نعمتیں بھی ملیں گی؟ ہاں! یہ لذت توبہ کی ابتدا میں نہیں ملتی بلکہ عرصہ دراز تک صبر کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے جب بھلائی اس کی عادت بن جائے جیساکہ برائی اس کی عادت تھی۔ نفس کو جس بات کا عادی بناؤ وہ اس بات کا عادی بننے کی قابلیت رکھتا ہے۔ بھلائی ایک عادت ہے جبکہ برائی ہٹ دھرمی ہے۔
	بہرحال یہ افکار خوف کو ابھارتے ہیں جوکہ دنیوی لذات سے باز رہنے کی قوت کو ابھارتا ہے اور ان افکار کا مُحَرِّک واعظوں کی وعظ ونصیحت اور وہ تنبیہات ہیں جو اتفاقاً کسی سبب سے دل پر واقع ہوتی ہیں اور وہ بےشمار ہیں۔ اس طرح فکر طبیعت کے موافق ہوجاتی ہے اور دل اس کی طرف مائل ہوتا ہے اور وہ سبب جو طبیعت اور فکر کے درمِیان مُوافَقَت پیدا کرتا ہے اسےبھلائی کی توفیق کہا جاتا ہے کیونکہ توفیق نام ہے ارادے اور اس طاعت کو ملانے کا جو آخرت میں نفع دے۔
کفر کی بنیاد کس چیز پر ہے؟
	حدیْثِ پاک میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہوئے اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں عرض کی:”امیرالمؤمنین! ہمیں کفر کے