Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
180 - 882
 فرمایا:”اگر تمہارا کہنا صحیح ہوا تو ہم سب نے نجات پائی اور اگر ہماری بات درست ہوئی تو ہم نجات پائیں گے اور تم ہلاک ہوگے، یعنی عقل مند انسان تمام حالات میں اَمن کے راستے پر چلتا ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	یہ باتیں تو واضح ہیں لیکن ان کا حصول غور وفکر کے بغیر ممکن نہیں تو دلوں کو کیا ہوا کہ انہوں نے (آخرت کے متعلق)غور وفکر چھوڑدیا اور اسے بوجھ سمجھ لیا اور دلوں کو فکر کی طرف لوٹانے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے، خصوصاً وہ شخص کیا کرے جو اصل شریعت اور اس کی تفصیل دونوں پر ایمان رکھتا ہے؟ جواب:(آخرت کے متعلق)غور وفکر سے مانع دو باتیں ہیں۔
فکرِ آخرت سے مانع دو باتیں:
٭…فائدہ اس سوچ اور فکر کا ہے جس میں عذابِ آخرت، اس کی سختیاں اور ہولناکیاں اور گناہ گاروں کی جنّت کی نعمتوں سے محرومی پر حسرت پیش نظر ہو اور اس فکر کے نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ فکر انسان کو گویا ڈستی ہے اور دل کو اذیت پہنچاتی ہے لہٰذا دل اس سے بھاگتا ہے اور دنیوی اُمور کے متعلق سوچنے میں راحت محسوس کرتے ہوئے اس سے لذت اُٹھاتا ہے۔
٭…(آخرت کے متعلق)غور وفکر میں مشغول ہونا انسان کو دنیوی لذات کے حصول اور خواہشات کی تکمیل سے روک دیتا ہے اور ہرانسان پر ہرگھڑی ایک خواہش غالب ہوتی ہے اور اسے اپنا غلام بنائے ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی عقل خواہشات کے سامنے عاجز ہوجاتی ہے اور بندہ شہوت کی تکمیل کے لئے حیلہ تلاش کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے اور طلب حیلہ یا تکمیل شہوت میں لذت پاتا ہے جبکہ فکر آخرت اس لذت سے مانع ہے (پس یہ لذت ہی اس غور وفکر سے مانع ہے)۔
دونوں باتوں کا علاج:
٭…انسان اپنے دل سے کہے تُو کس قدر بےوقوف ہے کہ موت اور اس کے بعد والے حالات کے بارے میں غور وفکر سے احتراز کرتا ہے اور اس کا ذکر باعث تکلیف سمجھتا ہے اوراس کی تکلیف کو حقیر جانتا ہے۔