Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
18 - 882
 اِجما ع بھی مُنْعَقِد ہے کیونکہ توبہ کا معنیٰ اس بات کو جاننا ہے کہ  گناہ ہلاکت میں ڈالنے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دور کرنے والے ہیں اور اس بات کا جاننا وُجُوبِ ایمان میں داخل ہے لیکن بعض دفعہ اس سے غفلت ہوجاتی ہے لہٰذا اس علم کا مطلب اس غفلت کو زائل کرنا ہے اور اس کے واجب ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔
توبہ کی روح:
	توبہ کا ایک مطلب یہ ہے کہ گناہوں کو فی الفور چھوڑدے، آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کرے اور ماضی کے معاملات میں جو کوتاہی ہوچکی اس کی تلافی کرے۔ اس کے وجوب میں کوئی شک نہیں البتہ! جہاں تک گزرے ہوئے گناہوں پر نَدامت وشرمندگی اور ان پر افسوس کا تعلق ہے تو یہ بھی واجب ہے۔ یہ توبہ کی روح ہے اور اسی سے تلافی کی تکمیل ہوتی ہے توپھر یہ کیونکر واجب نہ ہوگی بلکہ یہ تو ایک قسم کا رنج والم ہے جو اس وقت لامُحالَہ طاری ہوتا ہے جب بندے کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ناراضی میں بسر ہونے والی عمر کے نقصان کی مَعْرِفت ہوتی ہے۔
سُوال جواب:
	سوال:اگر یہ کہا جائے کہ دل کا رنج واَلَم سے دوچار ہونا تو لازمی سی بات ہے جو اختیار کے تحت داخل نہیں تو پھر یہ واجب کیسے؟اس کاجوابیہ ہے کہ اس کا سبب محبوب کی جدائی کا علم ہونا ہے اور بندے کے لئے اس سبب تک پہنچنے کا ایک راستہ موجود ہے، اسی معنیٰ کے لحاظ سے توبہ کی تعریف میں علم، وجوب کے تحت داخل ہے، اس معنی کے اعتبار سے نہیں کہ بندہ خود علم کو پیدا کرتا اور دل میں ایجاد کرلیتا ہے بلکہ یہ تو مُحال ہے۔ علم، ندامت، فعل، ارادہ اور قدرت یہ تمام اَفعال اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیدافرمانے اور اس کے فعل سے ہیں۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ (پ۲۳،الصٰفٰت:۹۶)  ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو۔
	اہلِ بصیرت کے نزدیک یہی حق ہے اس کے سوا سب گمراہی ہے۔
	سُوال:اگر تم کہو کہ جب تمام اَفعال کا خالق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہے تو کیا بندے کو کام کرنے یا نہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں؟