کھاؤگے یا چھوڑ دوگے اگرچہ وہ لذیذ ترین کھانا ہو؟“وہ کہے گا ”یقیناً وہ کھانا چھوڑدوں گا کیونکہ میں کہوں گا کہ اگر یہ شخص جھوٹا بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ میرا یہ کھانا ضائع ہوجائے گا اور اس کھانے سے باز رہنا اگرچہ مشکل ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ سچ کہتا ہو اور میں زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھوں اور کھانا ضائع ہونے اور اسے نہ کھانے کی تکلیف کے مقابلے میں موت کا سامنا کرنا زیادہ سخت ہے۔“ تو ایسے شخص سے کہا جائے ”سُبْحَانَ اللہ! تو کس طرح تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تصدیق کرنے میں تاخیر کا شکار ہے حالانکہ ان کے معجزات ظاہر ہوئے اور تمام اولیا، علما وحکما بلکہ تمام عقل مند لوگوں نے ان کی تصدیق کی ہے اور یہ لوگ جاہل نہ تھے بلکہ عقل مندتھے جبکہ دوسری طرف تو ایک اجنبی کی بات کو سچ مانتا ہے حالانکہ ممکن ہے اس میں اس کی کوئی غرض ہو۔ عُقَلا میں سے کوئی ایسا نہیں جو یوم آخرت کی تصدیق نہ کرتا ہو یا ثواب وعذاب کو حق نہ جانتا ہو اگرچہ اس کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ اگر یہ لوگ سچے ہیں تو تجھے ہمیشہ کا عذاب ہوگا اور اگر (بالفرض) یہ جھوٹے ہیں تو تجھ سے صرف فریب اور دھوکے سے بھرپور فانی دنیا کی چند خواہشات ہی چھوٹیں گی۔“
اس ساری بیان کی گئی فکر وسوچ کے بعد عقل مند شخص کے لئے توقُّف کی گنجائش باقی نہیں رہتی کیونکہ اس محدود زندگی کو ہمیشہ کی زندگی سے کوئی نسبت نہیں بلکہ اگر ہم فرض کریں کہ دنیا ذرّات سے بھری ہوئی ہے اور ایک پرندہ دس لاکھ سال کے بعد ایک ذرّہ اٹھاتا ہے توبھی ذرّات ختم ہوجائیں گے جبکہ ہمیشہ رہنے والی زندگی میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ تو بھلا عقل مند شخص کی رائے ہمیشہ کی سعادت کے بدلے (زیادہ سے زیادہ ) 100سال کی خواہشات سے صبر کرنے میں کیونکر دھوکا کھا سکتی ہے۔ اسی لئے ابوالعلاء احمد بن سلیمان تنوخی معری نے کہا:
قَالَ الْمُنْجِمُ وَالطَّبِیْبُ کِلَاھُمَا لَاتُبْعَثُ الْاَمْوَاتُ قُلْتُ اِلَیْکُمَا
اِنْ صَحَّ قَوْلُکُمَا فَلَسْتُ بِخَاسِرٍ اَوْصَحَّ قَوْلِیْ فَالْخَسَارُ عَلَیْکُمَا
ترجمہ:(۱)…نجومی اور طبیب دونوں نے کہا کہ مُردوں کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، میں نے ان سے کہا۔
(۲)…اگر تمہاری بات سچی ہو تو مجھے خسارہ نہ ہوگا اور اگر میری بات درست ہوئی تو تم دونوں خسارے میں ہوگے۔
عقل مند انسان اَمن کے راستے چلتا ہے:
ایک کم عقل اور شکی انسان سے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے