Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
178 - 882
بِنا اسباب مغفرت الٰہی کا منتظر رہنے کا علاج:
	گناہوں میں مبتلا ہونے کا ایک سبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے معافی کا انتظار ہے۔ اس کا علاج پیچھے بیان ہو چکا ہے اور ایسا شخص اس آدمی کی طرح ہے جو اپنا تمام مال خرچ کردے اور خود کو اور اہل وعیال کو محتاج کردے اور اس بات کے انتظار میں رہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے فضل سے اسے ویران جگہ میں خزانہ کی طرف راہنمائی فرمائے گا۔ گناہ کی معافی کا امکان بھی اسی طرح ہے اور یہ اس شخص کی طرح ہے جو جانتا ہے کہ اس شہر میں لوٹ مار کا امکان ہے اور اپنا مال چھپانے اور دفن کرنے پر قادر بھی ہے اس کے باوجود اسے گھر کے صحن میں رکھ دیتا ہے اور کہتاہے میں اس بات کا منتظر ہوں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے فضل سے لوٹنے والوں پر غفلت مُسَلَّط کردے گایاظالم لٹیرے کو سزا دے گا حتّٰی کہ وہ میرے گھر کی طرف آنے کا موقع نہ پائے گا یا جب وہ میرے گھر کی طرف آئے گا تو دروازے پر ہی مرجائے گا کیونکہ موت اور غفلت دونوں ممکن ہیں اور قصہ کہانیوں میں اس طرح کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں لہٰذا میں بھی اسی طرح فَضْلِ الٰہی کا منتظر ہوں۔ تو یوں انتظار کرنے والا منتظر تو ایک ممکن بات کا ہے لیکن وہ انتہائی حماقت اور جہالت کا شکار ہے کیونکہ اس طرح کا واقعہ شاید کبھی پیش نہیں آیا۔
رُسُل عظام کی تکذیب کرنے والوں کا علاج:
	رسل عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے سچا ہونے میں شک کرنا کفر ہے اور اس کا علاج ان باتوں کا جاننا ہے جو ان کے سچا ہونے پر دلالت کرتی ہیں لیکن یہ ایک طویل امر ہے۔ ایسے شخص کا علاج ان باتوں کے ذریعے کیا جائے جنہیں وہ آسانی سے سمجھ سکے۔ مثلاً اس سے پوچھا جائے کہ ”انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام جن کو معجزات سے تائید حاصل ہے انہوں نے جو کچھ فرمایا کیا تم اس پر یقین رکھتے ہو یا تمہارا کہنا یہ ہے کہ میں اسے اسی طرح محال جانتا ہوں جیسے ایک شخص کا ایک ہی وقت میں دو جگہ ہونا محال جانتا ہوں؟“ اگر وہ کہے ”ہاں! میں اسی طرح محال جانتا ہوں۔“ تو وہ شخص ناقِصُ العقل ہے اور اس کا عقل مندوں میں کوئی شمار نہیں اور اگر وہ کہے کہ ”مجھے اس بارے میں شک ہے۔“ تو اس سے پوچھا جائے ”اگر تم گھر پر کھانا چھوڑ کے آؤ اور کوئی اجنبی شخص تمہیں یہ کہے کہ اس میں سانپ نے منہ مارا ہے اور اپنا زہر اس میں ڈال دیا ہے اور تمہاری نظر میں سچا معلوم ہوتا ہو تو کیا تم اسے