Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
177 - 882
 بیماری کی تکلیف سے ہلکا ہوسکتا ہے حالانکہ آخرت کا ہردن دنیا کے پچاس ہزار دنوں کے برابر ہوگا؟
	اسی طرح غور وفکر کرکے خود پر غالب لذت کا علاج کرے نیز اپنے نفس کو تکلفاً اس کے چھوڑنے پر مجبور کرے اور یوں سوچے کہ جب میں زندگی کے ان قلیل ایام میں اپنی لذات کو چھوڑ نہیں سکتا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس پر کیسے قدرت پاؤں گا؟ جب میں صبر کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا تو آگ کی تکلیف کس طرح برداشت کروں گا؟ اور جب میں دنیا کی حسین ودلکش عارضی چیزوں کو کدورت اور میلی کچیلی ہونے کے باوجود نہیں چھوڑسکتا تو آخرت کی نعمتوں سے کیسے صبر کروں گا؟
توبہ میں تاخیر کرنے کا علاج:
	جہاں تک توبہ میں تاخیر اور ٹال مٹول کی بات ہے تو اس بات پر غور کرے کہ اکثر دوزخی توبہ میں تاخیر کی وجہ سے چلاتے ہوں گے کیونکہ ٹال مٹول کرنے والا اپنے معاملے کی بنیاد آئندہ زندگی کو بناتا ہے جوکہ اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ ممکن ہے وہ کل تک زندہ نہ رہے اور اگر باقی رہ بھی جائے تو جس طرح آج گناہ کو نہیں چھوڑسکتا ممکن ہے کل بھی اس کے ترک پر قدرت نہ پائے۔ کاش وہ جانتا کہ آج اس کی توبہ میں رکاوٹ شہوت کا غلبہ ہے اور شہوت تو کل بھی اس سے دور نہ ہوگی بلکہ بڑھ جائے گی کیونکہ عادت کی وجہ سے یہ مزید پختہ ہوجاتی ہے اور جس شہوت کو انسان عادت کے ذریعے پختہ کرلیتا ہے وہ اس کی طرح نہیں جسے اس نے پختہ نہ کیا۔ اسی سبب سے توبہ میں ٹال مٹول کرنے والے ہلاک ہوئے کیونکہ وہ دو ہم شکل چیزوں میں تو فرق سمجھتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ شہوات سے چھٹکارا پانا مشکل امر ہے اور اس معاملے میں تمام ایام یکساں ہیں۔
	توبہ میں تاخیر کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے ایک درخت کو اکھاڑنے کی حاجت ہے لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ درخت مضبوط ہے اور اسے سخت مشقت کے بغیر نہیں اکھاڑا جاسکتا تو کہتا ہے میں اسے ایک سال بعد اکھاڑوں گا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ درخت جب تک قائم رہتا ہے اس کی جڑیں مضبوط ہوتی جاتی ہیں اور خود اس کی عمر جوں جوں بڑھتی ہے یہ کمزور ہوتا جاتا ہے تو دنیا میں اس سے بڑھ کراحمق کوئی نہیں کہ اس نے قوت کے باوجود کمزور کا مقابلہ نہ کیا اور اس بات کا منتظر رہا کہ جب یہ خود کمزور ہوجائے گا اور کمزور شے مضبوط ہوجائے تو اس پر غلبہ پائے گا۔