Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
176 - 882
مریض کی سی ہے جسے طبیب نقصان دہ چیز کھانے سے منع کرتا ہے پس اگر وہ شخص اس طبیب کے ماہر ہونے کا یقین نہ رکھتا ہو تو وہ اسے جھٹلائے گا یا اس کے بارے میں شک کرے گا۔
	اس سبب کے بارے میں غور نہ کیا جائے کیونکہ یہ کفر ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	اگر کہا جائے کہ ان اسباب کا علاج کیا ہے؟جواب: ان کا علاج غور وفکر ہے وہ اس طرح کہ پہلے سبب یعنی عذاب کے مؤخر ہونے کے بارے میں اپنے دل میں یہ بات بٹھالے کہ جو چیز آنے والی ہے وہ آکر رہے گی اور دیکھنے والوں کے لئے کل کا دن (یعنی قیامت) قریب ہے۔ موت ہرانسان سے اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے۔ بندہ کیا جانے! شاید قیامت قریب ہو۔ جو چیز مؤخر ہو جب وہ واقع ہوتی ہے تو مکمل ہوکر رہتی ہے۔
آخرت سے غفلت اور میلانِ لذّاتِ دنیا کا علاج:
	بندہ اپنے دل میں سوچے کہ اس نے دنیا میں ہمیشہ مستقبل کے کام کے لئے خود کو حال ہی میں تھکانا شروع کردیا مثلاً انسان بحری اور بَرِّی سفر صرف اس نفع کے لئے کرتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں اسے اس کی حاجت ہوگی۔ بلکہ اگر وہ بیمار ہوجائے اور کوئی عیسائی طبیب ہی کہہ دے کہ ٹھنڈا پانی پینا نقصان دہ ہے اور وہ اس کی موت کا سبب بن سکتا ہے تو اگرچہ ٹھنڈا پانی اسے انتہائی لذیذ ہو لیکن وہ اسے چھوڑدیتا ہے جبکہ موت کی تکلیف لمحہ بھر کی ہے اگرچہ انسان موت کے بعد کا خوف نہ رکھے لیکن بالآخر دنیا ہرایک کو چھوڑنی ہے۔ اس ختم ہوجانے والی دنیا کی زندگی کو ازل وابد سے کیا نسبت؟ انسان کو غور کرنا چاہئے کہ وہ کس طرح ایک عیسائی کے کہنے پر لذت والی چیز چھوڑنے کو تیار ہوجاتا ہے حالانکہ اس کے ماہرطبیب ہونے پر کوئی معجزہ قائم نہیں اور اپنے آپ سے کہنا چاہئے کہ یہ بات میری عقل کے لائق کیونکر ہوسکتی ہے کہ جن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی معجزات کے ساتھ تائید کی گئی ہے ان کا قول میرے نزدیک ایک عیسائی کے قول سے بھی کم درجہ رکھے جوکہ طبیب ہونے کا دعوٰی کرتا ہے اور اس کے ماہر ہونے پر کسی معجزہ سے تائید نہیں بلکہ اس کی گواہی تو صرف عام لوگ دیتے ہیں اور جہنم کا عذاب کس طرح میرے نزدیک