Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
175 - 882
کے بعد عرض کی:”تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہوسکے گا۔“(1)
	شہوت کا فی الحال موجود ہونا اور عذاب کا مؤخر ہونا یہ دو ظاہری اسباب ہیں جو بندے کے لئے مومن ہونے کے باوجود گناہوں پر اصرار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ بیماری کی حالت میں سخت پیاس کے باعث برف کا پانی پینے والا اصل طب کو ہی جھٹلاتا ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اسے اپنے حق میں نقصان دہ ہونے کو جھٹلاتا ہو بلکہ اس پر خواہش غالب آچکی ہوتی ہے تو فی الحال صبر کی تکلیف اُٹھانے کے بجائے مؤخر کرنا اسے آسان معلوم ہوتا ہے۔
تیسرا سبب:
٭…توبہ کی امید: ہرگناہ گار مومن عام طور پر توبہ کا اور نیکیوں کے ذریعے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا عزم وارادہ رکھتا ہے اور اس سے وعدہ کیا گیا ہے کہ نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں لیکن چونکہ طبیعت انسانی پر لمبی امیدیں غالب ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ توبہ میں تاخیر کرتا رہتا ہے۔ تو درحقیقت انسان توبہ کی توفیق ملنے کی امید پر مومن ہونے کے باوجود گناہ کر بیٹھتا ہے۔
چوتھا سبب:
٭…گناہ کا قابل معافی ہونا: ہرمومن یقیناً اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ گناہوں کی وجہ سے بندہ جس سزا کا مستحق ہوتا ہے وہ ایسی نہیں کہ اس کی معافی ناممکن ہے۔ اسی لئے جب اس سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فضل پر بھروسا کرتے ہوئے مغفرت کا منتظر رہتا ہے۔
	یہ چار اسباب ہیں جن کی وجہ سے بندہ مومن ہونے کے باوجود گناہوں پر مُصِر ہوجاتا ہے۔
پانچواں سبب:
٭…شک: بعض اوقات انسان ایک ایسے سبب سے گناہ کرتا ہے جوکہ اصل ایمان میں خرابی کا باعث بنتا ہے اور وہ رُسُل عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے سچا ہونے میں شک کرنا ہے اور یہ کفر ہے۔ اس شخص کی مثال اس 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سنن ابی داود، کتاب السنة، باب فی خلق الجنة والنار،۴/ ۳۱۲، حدیث :۴۷۴۴،بتقدم وتاخر