Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
174 - 882
دوسرا سبب:
٭…لذات دنیا کا فوری حاصل ہونا: خواہشات جو گناہوں پر اُبھارتی ہیں ان کی لذات فوری حاصل ہوتی ہیں اور عادت واُلفت کے سبب وہ قوی اور غالب ہوجاتی ہیں کہ عادت پانچویں طبیعت ہے اور مستقبل میں آنے والے عذاب کے خوف کے سبب فوری حاصل ہونے والی لذت کو چھوڑنا نفس پر دشوار ہوتا ہے۔ اسی لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:” کَلَّا بَلْ تُحِبُّوۡنَ الْعَاجِلَۃَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ تَذَرُوۡنَ الْاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾ (1)‘‘
	مزید ارشاد فرمایا:  بَلْ تُؤْثِرُوۡنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا﴿۱۶﴾ (پ۳۰،الاعلٰی:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:بلکہ تم جیتی دنیا کو ترجیح دیتے ہو۔
	اس دشوارامرکونبیّ غیب دان،رحمت عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں بیان فرمایا:”حُفَّتِ الْجَـنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ یعنی جنّت تکالیف سے گھیردی گئی ہے اور جہنم خواہشات سے گھیردی گئی ہے۔“(2)
	ایک مرتبہ حضور نبیّ اکرم، رحمت عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دوزخ کوپیدا فرمایا پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیا کہ جاکر اسے دیکھیں۔ انہوں نے اسے دیکھا تو عرض کی:”تیری عزت کی قسم! جو اس کے بارے میں سنے گا وہ اس میں نہیں جائے گا۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کے چاروں طرف خواہشات پھیلادیں پھر فرمایا:”اب جاکر دیکھو۔“ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے دیکھنے کے بعد عرض کی:”تیری عزت کی قسم! ڈر ہے کہ اس میں داخل ہونے سے کوئی نہ بچ سکے گا۔“ اسی طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جنّت کو پیدا فرمایا اور اسے دیکھنے کا حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم فرمایا۔ انہوں نے اسے دیکھا تو عرض کی:”تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہوگا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے چاروں طرف تکلیف دہ اور ناپسندیدہ اُمور پھیلادیئےپھر فرمایا:”جاکر اسے دیکھو۔“ انہوں نے اسے دیکھنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان:کوئی نہیں بلکہ اے کافرو تم پاؤں تلے کی دوست رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑے بیٹھے ہو۔(پ۲۹،القیامة:۲۰، ۲۱)
2… مسلم، کتاب الجنة، باب  وصفة نعیمھا واھلھا ، ص ۱۵۱۶،حدیث : ۲۸۲۲۔