مدد سے صبر کرنا آسان ہوجائے گا اور طلب علاج کے اسباب پیدا ہوجائیں گے اور یہ سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق اور آسانیاں پیدا فرمانے سے ہوگا۔
جو شخص خوب دل لگاکر سنے اور خوف کا شعور حاصل کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے پھر ثواب کا انتظار کرے اور سب سے اچھی بات کی تصدیق کرے(یعنی ایمان لےآئے) تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے آسانیاں پیدا فرما دیتا ہے لیکن جو شخص بخل سے کام لے اور (ثواب اور نعمت) کی پروا نہ کرے اور اچھی بات(یعنی دین اسلام) کو جھٹلائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تنگی اور سختی میں ڈال دے گا پھر جب تک وہ اس میں مشغول رہے گا دنیا کی کوئی لذت اسے فائدہ نہ دے گی بالآخر وہ ہلاک ہوکر گڑھے میں جاگرے گا۔ انبیائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کام ہدایت کا راستہ واضح کردینا ہے اور دنیا اور آخرت کا مالک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر کہا جائے کہ تمام معاملہ ایمان کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ گناہ کو چھوڑنا صبر کے بغیر ممکن نہیں اور صبر خوف کے بارے میں آگاہی سے حاصل ہوتا ہے اور خوف کا ذریعہ علم ہے اور علم کا حصول اس وقت ہوتا ہے جب گناہ کرنے پر سخت نقصان ہونے کا یقین ہو اور گناہ کرنے پر نقصان ہونے کی تصدیق دراصل اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق ہے اور یہی ایمان ہے تو گویا جو شخص گناہ پر ڈٹ جاتا ہے وہ مومن نہیں؟
جواب: جان لو! ایسا نہیں کہ ایمان نہ ہونے کی وجہ سے انسان گناہوں پر ڈٹ جاتا ہے بلکہ یہ ایمان کی کمزوری کے باعث ہوتا ہے کیونکہ ہرمومن اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گناہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دوری اور آخرت میں اس کے عذاب کا سبب ہے اس کے باوجود وہ چند اُمور کے سبب گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
گناہ میں مبتلا ہونے کے اسباب
پہلا سبب:
٭…عذاب کا فوری نہ ہونا: جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ نظروں کے سامنے نہیں اور فطرت انسانی سامنے موجود چیز سے متاثر ہوتی ہے تو جس چیزکا وعدہ کیا گیا ہے موجود چیز کے مقابلے میں اس کا اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔