Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
172 - 882
 ہوتی ہے۔ ابھی جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ غفلت کا علاج ہے باقی رہا شہوت کا علاج تو اس کا طریقہ ہم ”ریاضت نفس کے بیان“ میں ذکر کرچکے۔
خواہِشِ نفس کے علاج کا طریقہ:
	خلاصَۂ کلام یہ ہے کہ مریض کو جب نقصان دہ اشیا کھانے کا بہت زیادہ شوق ہو تو اس کا طریقہ علاج یہ ہے کہ اس چیز کے شدید ضرر کے بارے میں معلومات حاصل کرے پھر وہ چیز اپنی آنکھوں کے سامنے سے غائب رکھے اور ایسی چیزسےتسلی حاصل کرے جو صورتاً اس سے ملتی جلتی ہو لیکن اس کا نقصان کم ہو پھر جو چیز استعمال کرررہا ہے اس کے نقصان کو پیش نظر رکھے اور اسے چھوڑنے میں آنے والی مشکل پر صبر کرتے ہوئے اسے بھی چھوڑدے۔ الغرض ہرحالت میں صبر کا کڑوا گھونٹ پینا ضروری ہے۔ اسی طرح گناہوں کے سلسلے میں خواہش کا علاج کیا جائے مثلاً جب کسی نوجوان پر شہوت کا غلبہ ہوجائے اور وہ اس شہوت کے معاملے میں اپنی آنکھ، دل اور اعضاء کی حفاظت نہ کرسکے تو اسے چاہئے کہ گناہ کے ضرر کا شعور حاصل کرے وہ اس طرح کہ قرآن پاک اور احادیث طیّبہ میں جو وعیدیں آئی ہیں ان پر خوب غور کرے جب اس کا خوف زیادہ ہوجائے گا تو وہ شہوت کو ابھارنے والے اسباب سے دور رہے گا۔
شہوت کو ابھارنے والے اسباب اور ان کا علاج:
	شہوت کو ابھارنے والے اسباب میں سے خارجی اسباب تو یہ ہیں کہ جس چیز کی خواہش ہو اس کے سامنے جانا اور اسے دیکھنا اور اس کا علاج اس سے بھاگنا اور دور رہنا ہے۔ کچھ اسباب داخلی ہیں مثلاً لذیذ کھانے کھانا اور اس کا علاج بھوکا رہنا اور کثرت سے روزے رکھنا ہے۔
	یہ تمام باتیں صرف صبر سے پوری ہوسکتی ہیں اور صبر خوف کی وجہ سے کیا جاتا ہے اور کسی چیز کا خوف اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب علم ہو اور علم بصیرت اور غور وفکر کے ذریعے حاصل  ہوتا ہے یاپھر تقلید اور سماع(سننے)کے ذریعے۔ تو سب سے پہلے نیک اور ذکر کی محافل میں حاضر ہونا ضروری ہے پھر دل کو تمام خیالات ومصروفیات سے خالی کرکے غور سے سنے پھر اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے اس میں غور وفکر کرے پھر جب اسے مکمل طور پر سمجھ لے گا تو لامحالہ خوف پیدا ہوگا اور جب خوف شدت اختیار کرجائے تو اس کی