Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
171 - 882
سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مکتوب:
	حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے حضرت سیِّدُنا عدی بن ارطاۃ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو مکتوب بھیجا:”اَمَّابَعد! بےشک دنیا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیاروں کی بھی دشمن ہے اور اس کے دشمنوں کی بھی دشمن ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دوستوں کو غم اور رنج پہنچاتی ہے اور اس کے دشمنوں کو دھوکا دیتی ہے۔“
	کسی گورنر کو بھیجے گئے ایک خط  میں لکھا:” اَمَّابَعد! تم بندوں پر ظلم کی قدرت رکھتے ہو جب کسی پر ظلم کا ارادہ کرو تو یادکرو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو تم پر کس قدر  قدرت ہے اور جان لو! لوگوں کو تم جو بھی تکلیف دوگے ان سے دور ہوجائے گی لیکن وہ تمہارے حق میں باقی رہے گی اور جان لو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ظالموں سے مظلوموں کا بدلہ لینے والا ہے۔ وَالسَّلَام“
بات وہی اثر کرتی ہے جو دل سے نکلتی ہے:
	واعظ کو چاہئے کہ عام لوگوں کو اور جس کے متعلق کسی خاص واقعہ کا علم نہ ہو اسے وعظ ونصیحت کرنے میں ذکرکردہ مثالوں کا سا انداز اختیار کرے۔ وعظ ونصیحت کی یہ مثالیں غذاؤں کی مانند ہیں جن سے سبھی لوگ نفع اٹھا سکتے ہیں۔ اس طرح کے اعلیٰ واعظین باقی نہ رہنے کی وجہ سے نصیحت کا دروازہ بند ہوگیا اور گناہوں کا غلبہ ہوگیا اور فساد پھیل گیا اور لوگوں کے درمیان ایسے واعظین آگئے جو اپنے بیان کو قافیوں سے مزین کرتے اور اشعار پڑھتے ہیں اور جو کچھ ان کے وسعت علم میں نہیں اسے بیان کرنے کی تکلیف اٹھاتے ہیں اور دوسروں کی نقّالی  کرتے ہیں۔ نتیجۃً لوگوں کے دلوں سے ان کا وقار ختم ہوگیا۔ ان واعظین کی نصیحت دل سے نہیں نکلتی کہ لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکے بلکہ بولنے والا خود علم وعمل سے کورا ہوتا ہے اور سننے والے بتکلف سنتے ہیں اور ان میں سے ہرایک دین سے پیچھے ہٹنے والا ہے۔ ایسی صورت حال میں طبیب کو چاہئے کہ سب سے پہلے مریض کا علاج کرے اور علما کو پہلے نافرمانوں کا علاج کرنا چاہئے۔
	(گناہوں پر اصرار سے چھٹکارے کے سلسلے میں) علاج کا یہ ایک رکن اور اصل ہے اور دوسرا رکن اور اصل صبر ہے۔ اس کی حاجت اس لئے ہے کہ نقصان دہ اشیاء کھانے کی وجہ سے مرض بڑھتا ہے اور انسان دو اسباب کی بنا پر نقصان دہ چیز کھالیتا ہے یا اس کے نقصان سے غافل ہوتا ہے یا اس چیز کی خواہش اس پر غالب