Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
170 - 882
 چھوڑدو اور ضرورت کے علاوہ کلام نہ کرو اور بلاضرورت لوگوں سے میل جول نہ رکھو۔“
سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے نام مکتوب:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو مکتوب بھیجا:”جس بات سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کو ڈرایا ہے اس سے ڈریں اور اس چیز سے بچیں جس سے بچنے کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حکم دیا ہے۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے اس سے آخرت کی تیاری کریں کیونکہ موت کے وقت یقینی خبر آئے گی۔ وَ السَّلَام“
	حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مزید نصیحت کے طالب ہوئے تو آپ نے ایک اور مکتوب ارسال فرمایا:”اَمَّابَعد! بےشک سب سے بڑا خطرہ اور ڈرانے والے اُمور آپ کے آگے ہیں اور آپ ان کو ضرور دیکھیں گے چاہے نجات کی صورت میں یا تباہی کے ساتھ۔ جان رکھیں! جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ نفع اٹھاتا ہے اور جو نفس سے غافل رہتا ہے وہ نقصان اٹھاتا ہے۔ جو انسان انجام پر نظر رکھتا ہے وہ نجات پاتا ہے اور جو نفس کی اتباع کرتا ہے گمراہ ہوتا ہے۔ جو شخص بردباری اختیار کرتا ہے نفع اٹھاتا ہے اور جو ڈرتا ہے وہ امن میں رہتا ہے اور جو اَمن میں ہوتا ہے وہ نصیحت حاصل کرتا ہے اور جو نصیحت پکڑتا ہے وہ صاحبِ بصیرت ہوتا ہے اور جو بصیرت پا لیتا ہے وہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے اور جو سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ جب کوئی لغزش ہوجائے تو فوراً باز آجاؤ اور جب ندامت ہو تو (گناہ کو) جڑ سے اکھاڑ پھینکو اور جس چیز کا علم نہ ہو اس کے بارے میں پوچھو اور جب غصہ آئے تو رُک جاؤ۔“
سیِّدُنا مُطَرف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا مکتوب:
	حضرت سیِّدُنا مطرف بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کو ایک خط لکھا:”اَمَّابَعد! دنیا سزا کا گھر ہے اس کے لئے بےعقل ہی جمع کرتا ہے اور جاہل ہی اس سے دھوکا کھاتا ہے۔ امیرالمؤمنین! دنیا میں اس زخمی شخص کی طرح رَہیں جو اپنے زخم کا علاج کرتا ہے اور مرض کا انجام جاننے کی وجہ سے علاج کی شدت وتکلیف پر صبر کرتا ہے۔“