Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
17 - 882
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چاہے اور وہ کہے: میں اپنی اسی جگہ لوٹ جاتا ہوں جہاں میں تھا تاکہ وہاں جاکر سوجاؤں حتّٰی کہ میرا انتقال ہوجائے۔ پس وہ مرنے کے لئے اپنی کلائی پر سر رکھ دے پھر جب بیدار ہو تو دیکھے کہ اس کی سُواری اس کے پاس موجود ہے جس پر اس کا کھانا اور پانی بھی موجود ہے، تو جس قدر وہ شخص اس سواری کے ملنے پر خوش ہوگا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے کہیں زیادہ بندے کی توبہ سے خوش ہوتا ہے۔(1)
	ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اسے سواری ملنے پراتنی زیادہ خوشی ہو کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے وقت (بےخیالی میں)یہ اَلفاظ کہہ جائے:’’میں تیرا ربّ ہوں اور تو میرا بندہ ہے۔‘‘(2)
توبہ اور اَبُوالبَشر عَلَیْہِ السَّلَام:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی توبہ قبول فرمائی تو فرشتوں نے انہیں مبارک باد پیش کی اور حضرت سیِّدُنا جبرائیل اور حضرت سیِّدُنا میکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَام نے حاضرِخدمت ہوکر عرض کی:”اے آدم عَلَیْہِ السَّلَام!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے قبولِ توبہ پر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔“ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:”اے جبریل! اگر اس توبہ کے بعد بھی سوال ہوا تو میرا مقام کہاں ہوگا؟“ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ”اے آدم! آپ نےاپنی اولاد کے لئے وراثت میں تھکاوٹ، دکھ اور توبہ کو چھوڑا ہے جو بھی مجھے پکارے گا میں اس کی پکار سنوں گا جیسے آپ کی پکارسنی اور جو مجھ سے مغفرت طلَب کرے گا میں اسے عطا کروں گا کیونکہ میں نزدیک اور دعا قبول فرمانے والا ہوں، اے آدم! میں توبہ کرنے والوں کو قبروں سے اس حال میں اٹھاؤں گا کہ وہ خوش ہوں گے اورمسکراتے ہوں گے اور ان کی دعا مقبول ہوگی۔“
وُجوبِ توبہ پر اجماعِ اُمت:
	توبہ کے بارے میں احادیْثِ مبارَکہ وآثارِشریفہ بےشمار ہیں اور توبہ کے واجِب ہونے پر اُمَّتِ مُسلِمَہ کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم، کتاب التوبة، باب فی الحض علی التوبة والفرح بھا، ص۱۴۶۸،حدیث: ۲۷۴۴،بتغیرقلیل
	بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبة،۴/ ۱۹۰،حدیث:۶۳۰۸ ،بتغیرقلیل 
2…مسلم، کتاب التوبة، باب فی الحض علی التوبة والفرح بھا، ص ۱۴۶۹،حدیث:۲۷۴۷ ،بتغیرقلیل