Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
169 - 882
 اور جو پیچھے چھوڑا وہ غیر کا مال ہے۔
٭…اے میرے بیٹے! جو رحم کرتا ہے اس پر رحم کیا جاتا ہے اور جو خاموش رہتا ہے سلامت رہتا ہے اور جو اچھی بات کہتا ہے غنیمت پاتا ہے اور جو بری بات کرتا ہے گناہ گار ہوتا ہے اور جو اپنی زبان پر قابو نہ رکھے وہ شرمندہ ہوتا ہے۔
سیِّدُنا ابوحازم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحت:
	ایک شخض نے حضرت سیِّدُنا ابوحازم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَاکِم کی خدمت میں نصیحت کا سوال کیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جس عمل کے کرتے ہوئے مرنا تم غنیمت سمجھتے ہو اسے لازم پکڑلو اور جس کام کے کرتے ہوئے مرنا مصیبت جانتے ہو اس سے بچو۔
سیِّدُنا خضر عَلَیْہِ السَّلَام کی نصیحت:
	حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت سیِّدُنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا:”مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔“ انہوں نے فرمایا:”اے عمران کے بیٹے! مسکراتے رہاکرو بہت زیادہ غصہ نہ کیا کرو، بہت نفع پہنچانے والے بنو نقصان پہنچانے والے نہ بنو، جھگڑوں سے دور رَہو اور بلاحاجت کہیں نہ جاؤ نیز کسی تعجب خیز بات کے علاوہ نہ ہنسو اور لوگوں کو ان کی خطاؤں پر عار نہ دلاؤ بلکہ اپنی خطا پر آنسو بہاؤ۔“
سیِّدُنا محمد بن کرام رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحت:
	ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا محمد بن کرامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے عرض کی:مجھے نصیحت فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا:جتنی کوشش اپنے نفس کو راضی کرنے کے لئے کرتے ہو اتنی کوشش اپنے خالق کی رضا کے لئے بھی کرو۔
سیِّدُنا حامد لفّاف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحت:
	ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا حامد لفّاف عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب سے عرض کی:”مجھے نصیحت کیجئے۔“ انہوں نے فرمایا:”اپنے دین کی حفاطت کے لئے اس طرح غلاف بناؤ جیسے قرآن پاک کو گرد سے بچانے کے لئے غلاف ہوتا ہے۔“ عرض کی:”دین کا غلاف کیا ہے؟“ ارشاد فرمایا:”سخت حاجت کے علاوہ دنیا کی طلب