Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
168 - 882
	جواب: ایسی صورت میں واعظ کو چاہئے کہ ان باتوں کی نصیحت کرے جن کی عمومی طور پر یا اکثر تمام لوگوں کو حاجت ہوتی ہے کیونکہ علوم شرعیہ میں غذائیں بھی ہیں اور دوائیں بھی۔ غذائیں سب کے لئے ہیں جبکہ دوائیں صرف بیماروں کے لئے ہیں۔ اس کی مثال یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں عرض کی:”مجھے نصیحت فرمائیے۔“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو کیونکہ تقوٰی اختیار کرنا تمام بھلائیوں کی جڑ ہے اور جہاد کرو کیونکہ اسلام کی رہبانیت (گوشہ نشینی) یہی ہے اور قرآن پاک کو لازم پکڑلو کیونکہ یہ زمین والوں میں تمہارے لئے نور اور اہل آسمان میں تمہارے لئے ذکر ہے اور اچھی بات کے سوا خاموشی اختیار کرو اس طرح تم شیطان پر غلبہ حاصل کرلوگے۔
سیِّدُنا حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحت:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی بارگاہ میں ایک شخص نصیحت کا طالب ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دین کی عزت کرو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں عزت عطا فرمائے گا۔
سیِّدُنا لقمان حکیم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بیٹے کو نصیحتیں:
٭…حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:اے میرے بیٹے! علما کی بارگاہ میں دوزانو بیٹھو اور ان سے جھگڑا نہ کر وورنہ وہ تم سے ناراض ہوجائیں گے۔
٭…دنیا سے اپنی ضرورت کے مطابق لو اور ضرورت سے زائد کمائی آخرت کے لئے خرچ کرو۔
٭…دنیا کو بالکل ہی نہ چھوڑدو کہ محتاج ہوجاؤ اور لوگوں پر بوجھ بن جاؤ۔
٭…ایسا روزہ رکھو جو تمہاری خواہش کو توڑدے اور ایسا روزہ نہ رکھو جو تمہاری نماز کا نقصان کرے کیونکہ نماز روزے سے افضل ہے۔
٭…بےوقوف لوگوں کی مجلس میں نہ بیٹھو اور نہ ہی منافق سے تعلق رکھو۔
٭…مزید فرمایا:اے بیٹے! کسی تعجب خیز بات کے علاوہ نہ ہنسو اور بلاضرورت نہ پھرو اور بےمقصد بات کا سوال نہ کرو اور اپنا مال ضائع نہ کرو اور غیر کے مال کی اصلاح کرو کیونکہ تمہارا مال وہ ہے جو تم نے آگے بھیجا