Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
167 - 882
سیِّدہ عائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا مکتوب:
	حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں ایک مکتوب بھیجا کہ مجھے ایک مختصر نصیحت تحریر فرمائیں۔ اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ان کی طرف مکتوب ارسال فرمایا جس میں لکھا تھا:عائشہ کی طرف سے معاویہ  کے لئے۔ سَلَامٌ عَلَیْک۔ اَمَّابَعد! میں نے رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتے سنا:جو شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کی تلاش میں لوگوں کو ناراض کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے لوگوں کی مشقت سے بچالیتا ہے اور جو انسان لوگوں کی خوشی کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو ناراض کرے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے لوگوں کے سپرد کردیتا ہے۔“(1) وَالسَّلَامُ عَلَیْک
	اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی کمالِ ذہانت پر غور کیجئے کہ کس طرح اس آفت کا ذکر کیا حکمران جس کے درپے ہیں یعنی لوگوں کی رعایت کرنا اور ان کی رضا چاہنا۔
	ایک مرتبہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مکتوب لکھا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرتے رہو اگر تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈروگے تو وہ تمہیں لوگوں کے مقابلے کافی ہوگا اور اگر تم لوگوں سے ڈروگے تو لوگ تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے بےنیاز نہیں کرسکتے۔ وَالسَّلَام“
واعظ کے لئے اہم بات:
	ہرواعظ کو اپنی مکمل توجہ باطنی صفات کی جانچ میں مصروف رکھنی چاہئے اور ان لوگوں کے لائق اُمور میں غور کرناچاہئے تاکہ اس کی مشغولیت مقصد کی طرف رہے کیونکہ ہربندے کو تمام شرعی احکام بیان کردینا ناممکن ہے اور جس بات کی انسان کو ضرورت نہیں وعظ میں اسے بیان کرنا وقت ضائع کرنا ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	اگر واعظ کسی مجمع میں وعظ کر رہا ہو یا کوئی نصیحت کا طالب ہو مگر واعظ اس کی باطنی کیفیت سے واقف نہ ہو تو واعظ کو کیا کرنا چاہئے؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی ، کتاب الزھد ، باب (۶۵)، ۴/ ۱۸۶، حدیث : ۲۴۲۲