کیجئے۔“ انہوں نے فرمایا:”میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ دنیا اور آخرت میں فرشتہ بن جاؤ۔“ اس نے کہا:”میرے لئے یہ کیسے ممکن ہے؟“ فرمایا:”خود پر دنیا سے بےرغبتی لا زم کرلو۔“
گویا نبیوں کے سردار، غیبوں پے خبردار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلے شخص میں غصے کی علامات کو جانا تو اسے غصے سے منع فرمایا اور دوسرے میں لوگوں سے طمع اور لمبی امیدیں لگانے کی علامات کو ملاحظہ فرمایا تو اسے اس سے منع فرمایا اور حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سائل میں دنیا کی حرص کا گمان کیا تو اسے اس بارے میں نصیحت فرمائی۔
سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی نصیحت:
ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی:”مجھے نصیحت فرمائیے۔“ انہوں نے فرمایا:”تم رحم کرنے والے بن جاؤ میں تمہارے لئے جنّت کا ضامن ہوجاؤں گا۔“
گویا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس میں بدکلامی اور سختی کے آثار ملاحظہ فرمالیے تھے۔
سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحت:
ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے عرض کی:مجھے نصیحت فرمائیے۔ فرمایا:”اِيَّاكَ وَالنَّاسَ وَعَلَيۡكَ بِالنَّاسِ وَلَابُدَّ مِنَ النَّاسِ فَاِنَّ النَّاسَ هُمُ النَّاسُ وَلَيۡسَ كُلُّ النَّاسِ بِالنَّاسِ ذَهَبَ النَّاسُ وَبَقِىَ النَّسۡنَاسُ وَمَا اَرَاهُمۡ بِّالنَّاسِ بَلۡ غَمِسُوۡا فِىۡ مَاءِ الۡيَاسِ یعنی جہلا کی صحبت سے بچو اور علما کی صحبت اختیار کرو کہ لوگوں کی صحبت میں رہنا تو ضروری ہے پس انسان کہلانے کے حقدار صرف علما ہیں اور خواہشات کے پیروکار انسان کہلانے کے حقدار نہیں، علما رخصت ہوگئے اور نسناس باقی رہ گئے(جن سے فقط احادیث روایت کی جاتی ہیں)اور میں انہیں انسان گمان نہیں کرتا بلکہ وہ تو مایوسی کے پانی میں غوطہ زن ہیں۔“
گویا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص میں میل جول کی آفت کو ملاحظہ فرمایا اور اس بات کی خبر دی جو اس وقت اس پر غالب تھی اور اس پر لوگوں کو اذیت دینے کا عمل غالب تھا اور زیادہ بہتر کلام وہی ہے جو سائل کی حالت کے مطابق ہو۔