Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
165 - 882
حاصل ہوتی ہے اور اس پر آنے والی ہرآزمائش اس کے گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا باعث ہوتی ہے۔
سزاؤں کا ذکر کرکے  وعظ کرنا:
٭…چوتھا طریقہ:(وعظ کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ) گناہوں پر جو سزائیں وارد ہوئی ہیں واعظ وہ بیان کرے۔ مثلاً شراب نوشی، زنا، چوری، قتل، غیبت، تکبر، حسد وغیرہ۔ تمام گناہوں کی سزاؤں کا شمار ناممکن ہے اور غیْرِاہل کے سامنے ان کا ذکر ایسے ہی ہے جیسے دوا کا استعمال غیرمحل میں کرنا بلکہ عالم کو طبیب حاذِق کی طرح ہونا چاہئے کہ پہلے وہ نبض، رنگ اور حرکات وسکنات سے باطنی بیماریوں کی جانچ کرتا ہے پھر ان کے علاج میں مصروف ہوجاتا ہے۔ عالم کو بھی چاہئے کہ احوال کے قرائِن سے مخفی صِفات کے بارے میں آگاہی حاصل کرے اور جن کے بارے میں جان لے رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتدا کرتے ہوئے انہی صفات کا حال بیان کرے۔
ناصح اعظم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نصیحت:
	حضورنبیّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں ایک شخص نے عرض کی:”مجھے نصیحت فرمائیے لیکن زیادہ نہ ہو۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”لَا تَغۡـضَبۡ یعنی غصہ نہ کیا کرو۔“(1)
	ایک شخص نے عرض کی:”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے نصیحت فرمائیے۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو کچھ لوگوں کے پاس ہے تم اس کی امید نہ رکھو بےشک یہی مال داری ہے اور لالچ سے بچو کہ یہ ہمیشہ کی محتاجی ہے اور نماز ایسے پڑھو گویا (دنیا سے) رخصت ہونے والے ہو اور ایسے کام سے بچو جس کے بعد معذرت کرنی پڑے۔“(2)
سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی نصیحت:
	حصرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کی:”مجھے نصیحت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب،۴/ ۱۳۱،حدیث : ۶۱۱۶ ،بتغیرقلیل
	سنن الترمذی ، کتاب البروالصلة، باب ماجاء فی کثرت الغضب،۳/ ۴۱۱،حدیث : ۲۰۲۷
2…الزھد الکبیر للبیھقی ، ص ۸۶، حدیث : ۱۰۱،دون’’فان ذالک ھوالغنی‘‘ …… المعجم ، الکبیر،۶/ ۴۴،حدیث : ۵۴۵۹