Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
164 - 882
حکایت:تین دن تک جسم سیاہ رہا
	حضرت سیِّدُنا ابوعمرو بن علوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ایک طویل واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک دن میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا۔ میرا دل ایک خواہش میں کھوگیا جس کے بارے میں دیر تک سوچتا رہا حتّٰی کہ مجھ پر شہوت کا غلبہ ہوگیا اور میں زمین پر گرگیا۔ میرا تمام جسم سیاہ ہوگیا۔ میں گھر میں چھپ کر بیٹھ گیا اور تین روز تک باہر نہ نکلا۔ میں اپنے جسم کو صابن سے دھوتا لیکن سیاہی بڑھتی جاتی۔ تین دن بعد وہ سیاہی ختم ہوگئی۔ اس وقت میں (عراق کے علاقے) ”رِقَّہ“ میں تھا۔ حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے مجھے بلایا۔ جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:”کیا تجھے حیا نہ آئی کہ تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑا تھا اور تیرے نفس نے تجھے شہوت میں اس قدر ڈبودیا کہ تجھ پر غالب آگیا اور تجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ سے نکال دیا۔ اگر میں تیرے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا نہ مانگتا اور تیری طرف سے توبہ نہ کرتا تو تُو اسی رنگ کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملاقات کرتا۔“ حضرت سیِّدُنا ابو عمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مجھے تعجب ہوا کہ ان کو یہ بات کیسے معلوم ہوگئی حالانکہ یہ تو بغداد میں ہیں اور میں مقام رقہ میں تھا؟
	جان لو! انسان جب بھی گناہ کرتا ہے تو اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ اگر وہ نیک بخت ہو تو زجر وتوبیخ کے لئے وہ سیاہی چہرے پر ظاہر کردی جاتی ہے اور اگر وہ بدبخت ہو تو سیاہی اس سے مخفی رکھی جاتی ہے حتّٰی کہ بندہ اس میں منہمک رہتا ہے اور جہنَّم اس پر واجب ہوجاتی ہے۔
نیک اور گناہ گار کا حال:
	دنیا ہی میں گناہوں کی سزا ملنے کے بارے میں کثیر احادیث مروی ہیں اور یہ سزا ئیں فقر، مرض اور ان کے علاوہ صورتوں میں بھی ظاہر ہوتی ہیں بلکہ دنیا میں گناہ کی ایک نحوست یہ بھی ہے کہ بندہ گناہوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اگر بندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ اس کی سزا ہوتی ہے تو وہ رزق جمیل سے محروم کردیا جاتا ہے اور اس کی بدبختی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو اگر نعمت ملتی بھی ہے تو یہ رب تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے اور شکر ادا نہ کرنے کے سبب اس کی پکڑ کی جاتی ہے۔
	جہاں تک فرمانبردار کا تعلق ہے تو فرمانبرداری کے سبب ہرنعمت اس کی جزا ہوتی ہے اور اسے شکر کی توفیق