سے ناانصافی کا سامنا ہوتا ہے وہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے ہے۔
کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمان ہے کہ میرا گدھا جب عجیب حرکت کرنے لگتا ہے تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ یہ میرے گناہ کی وجہ سے ہے۔
ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں اپنے گناہوں کی سزا اپنے گھر کے چوہے میں بھی معلوم کرلیتا ہوں۔
مُلْکِ شام کے ایک صوفی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک خوبصورت عیسائی غلام کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اتنے میں حضرت سیِّدُنا ابْنِ جلاء دِمَشقی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے پاس سے گزرے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا تو مجھے ان سے حیا آئی۔ میں نے ان سے کہا:” اے ابوعبداللہ!سُبْحانَ اللہ! مجھے تعجب ہے کہ ایسی حسین صورت اور ایسی حکمت بھری صنعت کو کیسے آگ کے لئے پیدا کیا گیا؟“ انہوں نے میرا ہاتھ دبایا اور فرمایا:”تم کچھ عرصہ بعد اس گناہ کی سزا پاؤ گے۔“ شامی بزرگ فرماتے ہیں:”مجھے 30سال بعد اس کی سزا ملی۔“
حضرت سیِّدُنا سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں:”احتلام بھی ایک سزا ہے۔“ مزید فرمایا:”کسی نماز کی جماعت کا چھوٹ جانا بھی اس شخص کے کسی گناہ کی سزا ہوتی ہے۔“
مصائب وآلام اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہیں:
حدیْثِ مبارَک میں ہے:”مَااَنۡکَرۡتُمۡ مِّنۡ زَمَانِکُمۡ فَبِمَا غَیَّرۡتُمۡ مِّنۡ اَعۡمَالِکُمۡ یعنی زندگی میں تم جن باتوں کو ناپسند کرتے ہو وہ تمہارے برے اعمال کا نتیجہ ہیں۔“(1)
ایک حدیث شریف میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:”اِنَّ اَدۡنٰی مَا اَصۡنَعُ بِالۡعَبۡدِ اِذَا اٰثَرَ شَھۡوَتَہٗ عَلٰی طَاعَتِیۡ اَنۡ اَحۡرِمَہٗ لَذِیْذَ مُنَاجَاتِیۡ یعنی بندہ جب اپنی خواہش کو میری عبادت پر ترجیح دیتا ہے تو میں اسے کم سے کم سزا یہ دیتا ہوں کہ اسے اپنی مناجات کی لذت سے محروم کردیتاہوں۔“(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد الکبیر للبیھقی ، ص ۲۷۶،حدیث : ۷۰۹
2…تذکرة الموضوعات،باب فی زم الریا…الخ،ص۱۷۲،لم یوجد(سندہ)