Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
162 - 882
 سے علم بھول جاتا ہے۔
	اس روایت کایہی معنیٰ ہے:”مَنۡ قَارَفَ ذَنۡبًا فَارَقَہٗ عَقۡلٌ لَّا یَعُوۡدُ اِلَیۡہِ اَبَدًا یعنی جو شخص گناہ میں ملوث ہوتا ہے اس کی عقل اس سے جدا ہوجاتی ہے اور کبھی واپس نہیں آتی۔“(1)
سب سے بڑی محرومی:
	کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمان ہے: لعنت یہ نہیں کہ چہرہ سیاہ ہوجائے اور مال کا نقصان ہو بلکہ لعنت یہ ہے کہ انسان ایک گناہ کو چھوڑے اور اسی جیسے یا اس سے بڑے گناہ میں مبتلا ہوجائے۔
	درحقیقت ایساہی ہے جیساکہ انہوں نے فرمایا کیونکہ لعنت کا معنی ہے پھینک دینا اور دور کردینا اور جب انسان کو نیکی کی توفیق نہ ملے اور اس کے لئے گناہ  کرنا آسان کردیا جائے تو وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے دور کردیا جاتا ہے اور خیر کی توفیق سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ ہرگناہ اپنے سے بڑھ کر گناہ کی دعوت دیتا ہے اور نتیجۃ ً انسان علما کی صحبت سے محروم ہوجاتا ہے جو گناہوں سے دوری کا باعث ہوتی ہے نیز صالحین کی مجالس سے بھی محروم رہتا ہے بلکہ ایسے شخص سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ناراض ہوجاتا ہے تاکہ نیک لوگ بھی اس سے ناراض ہوجائیں۔
کیچڑ میں چلنے والے کی طرح:
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ کیچڑ میں کپڑوں کو سمیٹتے ہوئے چل رہے تھے تاکہ پاؤں نہ پھسل جائے مگر ان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ گرگئے پھر کھڑے ہوئے اور روتے روتے کیچڑ کے درمیان چلنے لگے اور کہہ رہے تھے:”بندے کی مثال ایسی ہی ہے کہ وہ گناہ سے بچتا رہتا ہے حتّٰی کہ ایک یا دو گناہوں میں جاپڑتا ہے جس کے سبب وہ گناہوں میں ڈوب جاتا ہے۔“
	یہ بات اشارہ ہے کہ گناہ کی فوری سزا یہ ہے کہ انسان دوسرے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
برائی پہنچنے پر بزرگانِ دین کی سوچ:
	حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ تمہیں جو گردش ایام یا بھائیوں کی طرف
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرة الموضوعات،باب افة الذنب والرضابہ…الخ،ص۱۶۹،لم یوجدسندہ