نے اسے بھلا دیا کہ اپنے رب(بادشاہ) کے سامنے یوسف کا ذکر کرے تو یوسف کئی برس اور جیل خانہ میں رہا۔)“
ایسی حکایات کی بےشمار مثالیں موجود ہیں۔ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں یہ حکایات محض قصہ خوانی کے لئے وارِد نہیں ہوئیں بلکہ نصیحت کے لئے بیان ہوئی ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کابھی امتحان لیا گیا(حالانکہ وہ قطعی جنتی اورگناہوں سے پاک ہیں)تو دوسروں سے کبیرہ گناہ کس طرح معاف ہوں گے۔ البتہ! انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی یہ سعادت ہے کہ انہیں فوری طور پر متنبّہ کردیا گیا اور ان کا معاملہ آخرت تک مؤخر نہیں جبکہ بدبخت لوگوں کو ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ گناہوں میں مزید بڑھیں اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت زیادہ ہے۔ اس طرح کی باتیں گناہوں میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے سامنے زیادہ بیان کی جائیں کیونکہ یہ توبہ پر ابھارنے میں زیادہ نفع بخش ہیں۔
دنیوی مصائب کا ذکر کرکے وعظ کرنا:
٭…تیسرا طریقہ: واعظین کو چاہئے لوگوں کے سامنے اس بات کو بیان کریں کہ گناہوں کی سزا دنیا ہی میں مل جانا ممکن ہے اور بندے کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کے سبب پہنچتی ہے۔
اکثر لوگ آخرت کے معاملے میں بہت سستی بَرتتے ہیں اور جہالت کی وجہ سے دنیوی سزاؤں سے ڈرتے ہیں۔ تو مناسب یہی ہے کہ ان کو دنیوی سزا سے ڈرایا جائے کیونکہ بعض خطاؤں کے سبب انسان دنیا ہی میں امتحان میں مبتلا کردیا جاتا ہے جیساکہ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے امتحان کا ذکر ہوا۔ حتّٰی کہ بعض اوقات خطاؤں کے سبب بندے پر رزق تنگ ہوجاتا ہے اور بعض اوقات لوگوں کے دلوں میں اس کی قدر ومنزلت کم ہوجاتی ہے اور اس کے دشمن اس پر غالب آجاتے ہیں۔ محسن کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”اِنَّ الۡعَبۡدَ لَیُحۡرَمُ الرِّزۡقَ بِالذَّنۡبِ یُصِیۡبُہٗ یعنی بےشک بندہ گناہ کے باعث رزق سے محروم کردیا جاتا ہے۔“(1)
گناہ عقل کو زائل کردیتا ہے:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے کہ بندہ گناہ کرنے کی وجہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… سنن ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب العقوبات،۴/ ۳۶۹، حدیث : ۴۰۲۲