خضر عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے گناہوں سے دور رہنے کی وجہ سے۔“
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہوا میں سیر کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنی نئی قمیص کی طرف اس طرح نظر کی گویا اسے پسند فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہوا نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو زمین پر اُتار دیا۔ آپ نے ہوا سے فرمایا:”تو نے ایسا کیوں کیا؟ کیا تو میرے لئے مُسخّر نہیں؟“ ہوا نے کہا:”ہم آپ کی اطاعت اسی لئے کرتے ہیں کہ آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم بجالاتے ہیں۔“
سیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام کا امتحان:
روایت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا یعقوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:”تمہیں معلوم ہے کہ میں نے تمہیں تمہارے بیٹے یوسف سے کیوں جدا کیا؟“ انہوں نے عرض کی:”نہیں۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے اس قول کی وجہ سے جو تم نے اس کے بھائیوں سے کہا: اَخَافُ اَنۡ یَّاۡکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنۡتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳﴾ (پ۱۲، یوسف : ۱۳ ، ترجمۂ کنزالایمان:(میں)ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھا لے اور تم اس سے بےخبر رہو۔)“ تم نے اس کے بارے میں بھیڑیئے کا خوف تو کیا لیکن مجھ سے اُمیدکی طرف توجہ نہ کی!تم نے اس کے بھائیوں کی غفلت کی طرف تو نظر کی لیکن اس طرف نظر نہ کی کہ اس کی حفاظت میرے ذِمَّہ ہے!کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اسے تمہاری طرف کیوں لوٹا دیا؟آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: نہیں۔اللہعَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا:اس لئے کہ تم نے مجھ سے امیدرکھتے ہوئے یوں کہا: عَسَی اللہُ اَنۡ یَّاۡتِـیَنِیۡ بِہِمْ جَمِیۡعًا ؕ (پ۱۳،یوسف:۸۳،ترجمۂ کنزالایمان:قریب ہے کہاللہان سب کومجھ سے لاملائے۔)اوراس لئے کہ تم نے یہ بھی کہا: اِذْہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَاَخِیۡہِ وَلَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوْحِ اللہِ ؕ (پ۱۳، یوسف:۸۷،ترجمۂ کنزالایمان: جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔)
سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کا امتحان:
حضرت سیِّدُنا یوسف بن یعقوبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب عزیز مصر کے مصاحب سے یہ فرمایا:’’ اُذْکُرْنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫ (پ۱۲، یوسف:۴۲، ترجمۂ کنزالایمان:اپنے رب(بادشاہ) کے پاس میرا ذکر کرنا۔)“تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نےارشادفرمایا:’’ فَاَنۡسٰىہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکْرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیۡنَ﴿۴۲﴾٪ (پ۱۲،یوسف:۴۲،ترجمۂ کنزالایمان:توشیطان