Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
16 - 882
توبہ کے متعلق تین فرامین باری تعالیٰ:
(1)…  وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۳۱﴾ (پ۱۸،النور:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانوں سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
	یہ حکم عام ہے یعنی سب ہی کو توبہ کا حکم ہے۔
(2)… یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوۡحًا ؕ(پ۲۸،التحریم:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے۔
	اس آیتِ مبارَکہ میں وارِد لفظ ”نَصُوۡح“ کا معنیٰاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ایسا خالص ہونا ہے کہ کسی قسم کی ملاوٹ نہ ہو۔ ”نَصُوْح“  کا لفظ ”نَصۡحٌ“ سے بنا ہے۔
(3)…یہ آیتِ مبارَکہ بھی توبہ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے:
اِنَّ اللہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیۡنَ﴿۲۲۲﴾ (پ۲،البقرة:۲۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ پسند رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور پسند رکھتا ہے ستھروں کو۔
توبہ کے متعلق دو فرامین مصطفٰے:
(1)…اَلتَّآئِبُ حَبِیۡبُ اللہ وَالتَّآئِبُ مِنَ الذَّنۡبِ کَمَنۡ لَّاذَنۡبَ لَہ یعنی توبہ کرنے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا دوست ہے اور گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔(1)
(2)…اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندۂ  مومن کی توبہ پر اس شخص سے کہیں زیا دہ خوش ہوتاہے جوکسی غیرمُوافق مُہْلِک جگہ پر اُترے، اس کے پاس اپنی سواری بھی ہو جس پر اس کا کھانا پینا ہو، وہ سر رکھ کر گہری نیند سوجائے پھر جب وہ بیدار ہو تو اس کی سواری جاچکی ہو، وہ اسے تلاش کرتا پھرے یہاں تک کہ اسے سخت گرمی اور پیاس لگے یا جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 1…نوادرالاصول للحکیم ترمذی، الاصل السادس و المائتان،۲/ ۷۶۰،حدیث:۱۰۳۰، بتقدم و تاخر