Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
159 - 882
جاتا اور مارا جاتا۔ منقول ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک گھر سے کھانا طلب کیا تو صاحب خانہ نے آپ کو لوٹا دیا(1)۔ حتّٰی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مچھلی کے پیٹ سے آپ کے لئے ایک انگوٹھی نکالی جسے آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے 40دن کے امتحان کے بعد پہنا تو پرندے آکر آپ کے سرمبارک پر جھکنے لگے اور جن، شیطان اور جنگلی جانور آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ جن لوگوں نے آپ سے ناروا سلوک کیا تھا وہ اب معذرت کرنے لگے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا: تم نے اس سے پہلے مجھ سے جو سلوک کیا میں اس پر تمہیں ملامت نہیں کرتا اور نہ ہی معذرت کرنے پر تمہاری تعریف کرتا ہوں، یہ تو ایک آسمانی حکم تھا جو ہوکر رہنا تھا۔
	اسرائیلی روایات میں ہے کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شہر کی ایک عورت سے نکاح کیا اور اسے اپنے ہاں لانے کے لئے اپنا غلام بھیجا۔ اس عورت کا نفس غلام کی طرف مائل ہوا تو اس نے قربت کی دعوت دی لیکن غلام اس سے باز رہا اور خود کو گناہ سے بچالیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کے تقوٰی کی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں نبی بنادیا۔ وہ بنی اسرائیل میں نبی تھے(2)۔
	حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات میں سے ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلَام سے پوچھا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کس سبب سے آپ کو غیب پر مطلع فرمایا؟“ حضرت سیِّدُنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… یہاں کچھ عبارت کا ترجمہ نہیں دیاگیااس کی عربی عبارت کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔
2… نبوَّت وہبی ہے کسبی نہیں۔چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صفحات پر مشتمل کتاب بہارِشریعت،جلد1،حصہ1،صفحہ38پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانامفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں:نبوَّت کسبی نہیں کہ آدمی عبادت ورِیاضت کے ذریعہ حاصل کرسکے،بلکہ محض عطائے الٰہی ہے،کہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے دیتا ہے،ہاں!دیتااسی کو ہے جسے اس منصَبِ عظیم کے قابل بناتا ہے،جوقبْلِ حصولِ نبوَّت تمام اخلاقِ رذیلہ سے پاک،اورتمام اخلاقِ فاضلہ سے مُزَیَّن ہوکرجملہ مدارجِ ولایت طے کرچکتاہےاوراپنے نسب وجسم وقول وفعل وحرکات وسکنات میں ہرایسی بات سے مُنَزہ ہوتا ہے جوباعِثِ نفرت ہو،اسے عقْلِ کامل عطاکی جاتی ہے،جواوروں کی عقل سے بدرجہازائدہے،کسی حکیم اورکسی فلسفی کی عقل اس کے لاکھویں حصہ تک نہیں پہنچ سکتی۔( اَللہُ اَعْلَمُ حَیۡثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ؕ ) (پ۸،الانعام:۱۲۴،ترجمۂ کنزالایمان:اللہخوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے) ( ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾) (پ۲۷،الحدید:۲۱،ترجمۂ کنزالایمان:یہاللہکا فضل ہے جسے چاہے دے اوراللہ بڑے فضل والا ہے)اورجواسے(نبوت)کوکسبی مانے کہ آدمی اپنے کسب وریاضت سے منصَبِ نبوت تک پہنچ سکتا ہے،کافرہے۔