اور ہرعالِم کو جس قدر پہنچی وہ اس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وارث ہے۔
انبیا واولیا کے واقعات کے ذریعے وعظ کرنا:
٭…دوسرا طریقہ:(وعظ کا ایک طریقہ یہ ہے کہ) انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَام اور سلف صالحینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کی حکایات اور ان کے امتحان کے سلسلہ میں ان پر جو آزمائشیں آئیں وہ بیان کی جائیں کہ وہ مخلوق کے دلوں پر خوب اَثر کرتی اور انہیں نفع پہنچاتی ہیں۔ مثلاً حضرت سیِّدُنا آدمصَفِیُّاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جنّت سے زمین پر اُترنے کا واقعہ کہ روایت میں ہے:جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے(ممنوعہ) درخت سے کھایا تو آپ کے جسم سے جنّتی لباس اُترگیا اور سَتْر ظاہر ہوگیا مگر تاج اور دستار کو آپ کے سر سے اُترنے میں حیا آئی تو حضرت سیِّدُنا جبریْلِ امینعَلَیْہِ السَّلَام نے آپ کے سر مبارک سے تاج اُتارا اور دستار کھولی۔ عرش سے ندا آئی کہ”دونوں (یعنی حضرت آدم و حوّا عَلَیْھِمَاالسَّلَام)جنت سےاُترجاؤ لغزش میں پڑجانے والے میرے ہاں نہیں رہتے۔“ حضرت سیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَام نے حالَتِ گِریہ میں حضرت سیِّدَتُنا حوّارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی طرف دیکھا اور ارشادفرمایا:”ہماری لغزش کا پہلا اثر یہ ہے کہ ہم محبوب کے دربار سے دور کردیئے گئے۔“(1)
سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کا امتحان:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواس بات پر تنبیہ کی گئی کہ ایک عورت نے اپنے باپ کے حق میں آپ سے فیصلہ کرنے کی درخواست کی تو آپ نے اس کی درخواست قبول کرلی اگرچہ اس پر عمل نہ فرمایا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عورت کی خاطر اس کے باپ کے حق میں فیصلہ کرنے کا خیال پیدا ہونے کے سبب آپعَلَیْہِ السَّلَام40روز تک بادشاہت سے محروم کردیئے گئے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بہت گریہ وزاری کی اور خوف خدا میں بےخود ہوگئے۔ ہاتھ پھیلا کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سوال کرتے لیکن بھوکے ہی رہتے۔ جب آپعَلَیْہِ السَّلَام کہتے کہ مجھے کھانا دو میں سلیمان بن داؤد ہوں تو آپ کو زخمی کیا جاتا اور دور کردیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… یہاں ایک روایت کا ترجمہ نہیں دیاگیااس کی عربی عبارت کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔