Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
157 - 882
اِنَّ اللہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنۡ تَزُوۡلَا ۬ۚ وَلَئِنۡ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ ؕ(پ۲۲،فاطر:۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کرے اور اگر وہ ہٹ جائیں تو اُنھیں کون روکے اللہ کے سوا۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث پاک میں ہے:” مہر لگانے والا عرش کے پائے سے لٹکا ہوا ہے، جب بےحرمتی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور حرام کو حلال ٹھہرایا جاتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّمہر لگانے والے کو بھیجتا ہے وہ د لوں پر مہر لگا دیتا ہے جو کچھ ان میں ہو۔“(1)
دل کھلی ہتھیلی کی مانند ہے:
	حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد سے روایت ہے کہ دل کھلی ہتھیلی کی مانند ہے جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو ایک انگلی بند ہوجاتی ہے یہاں تک کہ تمام انگلیاں بند ہوجاتی ہیں اس طرح دل بند ہوجاتا ہے یہی مہر لگنا ہے۔(2)
دل پر مہر کردی گئی تو نیکی کی توفیق نہ ملے گی:
	حصرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے فرمایا:”بندے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان گناہوں کی ایک معیَّن حد ہے جب بندہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے دل پر مہر کردیتا ہے اس کے بعد اسے نیکی کی توفیق نہیں دی جاتی۔
	گناہوں کی مذمت اور توبہ کرنے والوں کی تعریف میں بےشمار احادیث وآثار موجود ہیں۔ واعظ اگر رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وارث(یعنی عالِم) ہے تو اسے چاہئے کہ ان کو کثرت سے بیان کرے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دینار ودِرہم نہیں چھوڑے بلکہ آپ کی وراثت علم وحکمت ہے(3) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… موسوعةالامام ابن ابی الدنیا ، کتاب ا لتوبة،۳/ ۳۹۳،حدیث : ۲۳،بتغیر،عن ابن عمر رضی اللہ عنہ
2… الزھد لابن المبارک،ص ۳۷۸، الحدیث : ۱۰۷۱، قول مجاھد،بتغیرقلیل
3… سنن ابی داود ، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم،۳/ ۴۴۴،حدیث : ۳۶۴۱