Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
156 - 882
 ڈرایا گیا ہے۔ اسی طرح جو احادیث مبارَکہ اس سلسلے میں مروی ہیں وہ اور بزرگان دین کے اقوال بیان کرے۔ مثلاً حضور نبیّ اکرم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد معظم ہے کہ ہر وہ دن جس کی فجر طلوع ہوتی ہے اور ہر وہ رات جس کی شَفَق(یعنی غروب آفتاب کے وقت کی سُرخی) غائب ہوتی ہے دو فرشتے چار آوازوں میں ایک دوسرے کو جواب دیتے ہیں۔ پہلا فرشتہ کہتا ہے:” کاش! یہ مخلوق پیدا نہ ہوتی۔“دوسرا فرشتہ کہتا ہے:”جب یہ پیدا کیے گئے ہیں تو  کاش یہ اپنا مقصد تخلیق جانتے۔“پھر پہلا فرشتہ کہتا ہے:”اگر ان کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ یہ کیوں پیدا ہوئے تو کاش! جس بات کا علم رکھتے ہیں اس پر عمل کرتے۔“
	بعض روایات میں ہے (کہ ایک فرشتہ کہتا ہے):’’ کاش! یہ لوگ جن باتوں کا علم رکھتے ہیں اپنی مجلسوں میں ان کا تذکرہ کرتے۔“ اور دوسرا کہتا ہے:’’ کاش! جب انہوں نے اپنے علم پر عمل نہیں کیا تو جو عمل کیا ہے اس سے توبہ ہی  کرلیتے۔“
چھ ساعتوں کی مہلت:
	کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا فرمان ہے:جب بندہ گناہ کرتا ہے تو دائیں طرف والا فرشتہ جوکہ بائیں طرف والے پر امیر ہے اسے حکم دیتا ہے کہ چھ ساعتوں تک اپنا قلم اٹھائے رکھ اگر وہ استغفار کرلے تو اس کا گناہ نہ لکھ اور اگر استغفار نہ کرے تو لکھ لے۔
تم نے پیدا کیا ہوتا تو تمہیں رحم آتا:
	کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ بھی فرمان ہے کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو جس حصہ زمین پر ہوتا ہے وہ زمین اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اجازت مانگتی ہے کہ اسے اندر دھنسادے اور آسمان کی چھت کا ٹکڑا اس پر گرنے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ زمین وآسمان سے فرماتا ہے:”میرے بندے سے رک جاؤ اور اسے مہلت دو، تم نے اسے پیدا نہیں کیا، اگر تم نے اسے پیدا کیا ہوتا تو تمہیں اس پر رحم آتا، اگر وہ میری بارگاہ میں توبہ کرے تو میں اسے بخش دوں اور اگر وہ اس گناہ کے بدلے نیکی کرے تو میں اس کے گناہ کو نیکی میں تبدیل کردوں۔“
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس ارشاد گرامی کا یہی معنیٰ ہے: