جب طبیب جاہل یا خائن ہوگا تو دوا کے ذریعے ہلاک کردے گا کیونکہ وہ اس دوا کا استعمال غیرمحل میں کرے گا۔
دو دَوائیں اور دو مریض:
امید اور خوف دو دوائیں ہیں لیکن یہ دونوں دو مختلف بیماریوں میں مبتلا شخصوں کے لئے ہیں۔ جس شخص پر خوف کا غلبہ ہو حتّٰی کہ وہ دنیا سے بالکل دوری اختیار کرلے اور خود کو ایسے کام کا مکلّف بنائے جس کی طاقت نہیں رکھتا اور اپنے آپ پر زندگی بالکل تنگ کردے تو ایسے شخص کے سامنے امید کے اسباب ذکر کرکے اس کے خوف کو کم کیا جائے تاکہ وہ اعتدال کی طرف آجائے۔ اسی طرح جو شخص گناہوں پر مُصِر ہو اور توبہ کی خواہش بھی رکھتا ہو لیکن سابقہ گناہوں کو بہت بڑا سمجھتے ہوئے ناامیدی اور مایوسی کا شکار ہو اس کا علاج بھی امید کے اسباب کے ذریعے کیا جائے یہاں تک کہ اسے توبہ کی قبولیت کی امید ہو اور وہ توبہ کرلے۔ خبردار! گناہوں میں ڈوبے ہوئے مغرور شخص کا علاج امید کے اسباب کے ذریعے کرنا ایسا ہے جیسے گرمی کے مریض کا شہد سے علاج کرنا۔ یہ جاہلوں اور کندذہن لوگوں کا طریقہ ہے غرضیکہ طبیبوں کے فساد کی وجہ سے مرض اتنا اُلجھ چکا ہے کہ وہ دوا کو بالکل قبول نہیں کرتا۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر تم کہو کہ وعظ کا کوئی ایسا طریقہ ذکر کیا جائے جسے واعظین مخلوق کو وعظ کرتے ہوئے اختیار کرسکیں؟جواب: تو جان لو کہ اس میں بہت تفصیل ہے اور اس کا بیان بہت مشکل ہے۔ البتہ! ہم گناہوں پر اصرار کے خاتمہ اور لوگوں کو گناہ چھوڑنے پر ابھارنے کے لئے کچھ فائدہ مندکلام چار طریقوں کی صورت میں ذکر کرتے ہیں۔
وعظ ونصیحت کے چار طریقے
ڈَروالی آیات وروایات کے ذریعے وعظ کرنا:
٭…پہلا طریقہ: واعظ کو چاہئے کہ قرآن پاک کی ان آیات کا ذکر کرے جن میں گناہ گاروں اور نافرمانوں کو