دوسری وجہ:
دل کے مرض کا انجام اس دنیا میں نظر نہیں آتا جبکہ جسمانی مرض کا انجام موت ہے جو دکھائی دیتی ہے اور طبیعتیں اس سے نفرت کرتی ہیں اور موت کے بعد کے مَناظِر دکھائی نہیں دیتے۔ گناہوں کا انجام دل کی موت ہے جس کا مشاہدہ اس دنیا میں نہیں ہوتا اسی لئے گناہوں سے نفرت بھی کم ہوتی ہے اگرچہ اس کا ارتکاب کرنے والے کو اس کے گناہ ہونے کا علم ہو۔ یہی وجہ ہے تم دیکھو گے کہ قلبی بیماری میں انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کرتا ہے جبکہ جسمانی بیماری میں بھروسا کیے بغیر علاج کرواتا ہے۔
تیسری وجہ:
مرض میں سنگین تَر بات یہ ہے کہ طبیب ہی نہ ملے اور طبیب تو علما ہیں جو آج کے دور میں خود شدید بیمار ہیں حتّٰی کہ وہ علاج کرنے سے عاجز آچکے ہیں، ان کا مرض اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ان پر نقصان ظاہر نہیں ہوتا، وہ لوگوں کو گمراہ کرنے پر مجبور ہوگئے اور لوگوں کو ایسی راہیں دکھاتے ہیں جو ان کے مرض کومزید بڑھاتی ہیں۔ مہلک بیماری تو دنیا کی محبت ہے اور یہ بیماری خود اطبا پر غالب آچکی ہے جس کی وجہ سے وہ لوگوں کو حب دنیا سے نہیں ڈراتے کیونکہ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ لوگ کہیں گے ”تمہارا کیا حال ہے کہ دوسروں کو علاج کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھولے بیٹھے ہو۔“ اسی سبب سے یہ مرض تمام مخلوق میں عام ہوچکا ہے اور اس کی وبا بہت بڑھ گئی ہے۔ دوا ختم ہوگئی ہے اور لوگ طبیبوں کے فقدان کی وجہ سے ہلاک ہوگئے بلکہ طبیب لوگوں کو گمراہ کرنے میں مشغول ہوگئے۔
کاش! اگر وہ نصیحت نہیں کرتے تو دھوکے میں مبتلا بھی نہ کرتے، اصلاح نہیں کرسکتے تو فساد پھیلانے سے ہی باز رہتے۔ کاش! وہ خاموش رہیں اور کچھ نہ بولیں کیونکہ وہ جب بھی بولتے ہیں تو ان کے وعظ کا بنیادی مقصد لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے اور ان کے اس مقصد کا حصول امید بھرے بیانات کرنے، اسباب امید کو ترجیح دینے نیز رحمت کے دلائل ذکر کرنے سے ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ باتیں سننے میں باعث لذّت اور طبیعتوں پر ہلکی ہوتی ہیں۔ اب جب لوگ وعظ کی مجلسوں سے اٹھ کر جاتے ہیں تو گناہوں پر مزید جَرِی ہوچکے ہوتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر بھروسا بڑھ جاتا ہے۔