اگر بندہ نہ جانتا ہو کہ جو کچھ اس نے کیا ہے وہ گناہ ہے تو عالم کے لئے ضروری ہے کہ اسے آگاہ کرے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ہرعالِم کسی نہ کسی علاقے، شہر، محلے، مسجد یا کسی مجمع کی ذمہ داری سنبھالے اور وہاں کے رہنے والوں کو دین کا علم سکھائے اور ان کے سامنے واضح کرے کہ کونسی چیز ان کے لئے نقصان دہ ہے اور کس میں ان کا نفع ہے، کیا بات ان کی بدبختی کا باعث ہے اور کس بات میں سعادت مندی ہے اور عالم اس بات کا انتظار نہ کرے کہ لوگ آکر اس سے سوال کریں تو ہی بتائے بلکہ عالم کو چاہئے کہ خودہی لوگوں کو دین کی دعوت دے کیونکہ علما انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وارث ہیں اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے لوگوں کو ان کی جہالت پر نہیں چھوڑا بلکہ لوگوں کو ان کی مجلسوں میں پکارتے اور ابتدا میں لوگوں کے دروازوں پر جاتے اور ایک ایک کو بلاکر ہدایت کا رستہ دکھاتے کیونکہ دل کے مریض اپنی بیماری کا علم نہیں رکھتے جیسے کسی کے چہرے پر برص ہوجائے اور اس کے پاس آئینہ نہ ہو تو جب تک دوسرا شخص اسے نہ بتائے اسے اپنے مرض کا علم نہیں ہوتا۔ یہ بات تمام اہْلِ عِلْم حضرات پرضروری ولازم ہے۔
حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ ہربستی اور محلے میں کسی دیندار فقیہ عالم کو مقرر کریں جو لوگوں کو دین سکھائے کیونکہ لوگوں کی پیدائش جہالت پر ہوتی ہے لہٰذا اصل اور فرع دونوں تک اسلامی احکام پہنچانا ضروری ہیں۔ دنیا بیماروں کا مَسکَن ہے کیونکہ زمین کے اندر فوت شدہ اور اس کے اوپر بیمار رہتے ہیں اور دلوں کے مریض جسم کے مریضوں سے زیادہ ہیں۔ علما طبیب ہیں اور حکمران اس مسکن کی دیکھ بھال کرنے والے تو جس مریض پر علما کا علاج کارگر نہ ہوسکے اسے حکمران کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ اس کے شَر کو روکے جیساکہ طبیب پرہیز نہ کرنے والے مریض کو یا جس پر جنون طاری ہو اسے اس کی دیکھ بھال کرنے والے کے حوالے کردیتا ہے تاکہ وہ اسے زنجیروں میں جکڑدے اور خود کو اور تمام لوگوں کو اس کے شَر سے محفوظ رکھے۔
دل کے مریضوں کی کثرت کی وجوہات:
دل کے امراض تین وجوہات کی بنا پر جسمانی امراض سے زیادہ ہیں۔
پہلی وجہ:
دل کا مریض یہ نہیں جانتا کہ وہ بیمار ہے۔