تیسری بات:
مریض کے لئے ضروری ہے کہ طبیب کی بات پر خوب دھیان دے تاکہ اس کے منع کردہ پھلوں کے کھانے سے رک سکے اور تمام تَر مُضِر اسباب سے ڈرے تاکہ بدپرہیزی کے نقصان کا خوف اس پر غالب آجائے اس طرح خوف کی شدت اسے پرہیز پر ابھارے گی۔
دینی امور میں اس کی مثال یہ ہے کہ جو آیات اور احادیث مبارَکہ تقوٰی کی ترغیب دلاتی ہیں اور گناہوں کے ارتکاب نیز خواہشات کی اتباع سے روکتی ہیں ان پر خوب دھیان دے مزید جو کچھ اس سلسلے میں سنے بغیر شک وتردُّد کے اس کی تصدیق کرے حتّٰی کہ اس سے ایسا خوف پیدا ہو جو صبر کو تقویت دے جوکہ علاج کے سلسلے میں ایک رکن ہے۔
چوتھی بات:
مریض کو چاہئے کہ طبیب کی اس بات کو غور سے سنے جو اس کے مرض کے ساتھ خاص ہے اور جن سے اسے پرہیز کرنا ضروری ہے تاکہ اوّلاً وہ ان افعال واحوال اور کھانے پینے کی اشیاء کی تفصیل جان جائے جو اس کے لئے نقصان دہ ہیں کیونکہ ہرمریض کو ہرچیز سے پرہیز لازم نہیں اور نہ ہی ہردوا ہرمریض کو فائدہ دیتی ہے بلکہ ہربیماری کا ایک خاص علم اور خاص علاج ہے۔
دین کے اعتبار سے اس کی مثال یہ ہے کہ ہرانسان ہر خواہش اور گناہ میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ ہرمومن ایک یا چند مخصوص گناہوں میں گرفتار ہوتا ہے تو ابتداءً بندے کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ یہ گناہ ہے۔ اس کے بعد اس گناہ کی آفات اور نقصان کی مقدار کوجاننا چاہئے پھر اسے یہ جاننا چاہئے کہ اس سے بچنے کا کیا ذریعہ ہے اور پھر اس بات کو جاننا چاہئے کہ جو گناہ اس سے سرزد ہوچکا اس کا کفارہ کیسے ادا ہوگا۔ یہ علوم دینی طبیبوں کے ساتھ خاص ہیں اور وہ علما ہیں جو انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وارث ہیں۔
علما اور حکمرانوں کی ذمہ داری:
جب گناہ گار کو اپنے گناہ کا علم ہوجائے تو اس پر لازم ہے کہ ایسے طبیب سے علاج کروائے جو عالِم ہو اور