Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
151 - 882
 علوم دل کے امراض کے علاج کے لئے دوا کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ہر مرض کے لئے ایک مخصوص علم ہے جیساکہ علم طب تمام امراض کے علاج کے لئے نفع بخش ہے لیکن ہر بیماری ایک مخصوص علم کے ساتھ خاص ہے۔ یہی معاملہ گناہوں پر اصرار کی دوا کا ہے۔ ہم جسمانی امراض کی مثالیں دےکر اس خاص علم کا ذکر کرتے ہیں تاکہ سمجھنا آسان ہو۔
بیمار کے لئے چار ضروری باتیں:
	ہم کہتے ہیں کہ بیمار بہت سی باتوں کی تصدیق کا محتاج ہوتا ہے۔
پہلی بات:
	سب سے پہلے تو بیمار اس بات کی تصدیق کرے کہ بیماری اور صحت کے اسباب ہیں جن تک رسائی اختیار سے حاصل ہوتی ہے جیساکہ مُسَبِّبُ الاَسباب نے ان کو مرتب فرمایا ہے۔
	یہ اصل طب پر یقین کرنا ہے کیونکہ جو آدمی طب پر یقین نہیں رکھتا وہ علاج میں مشغول نہیں ہوسکتا اور اس کا ہلاک ہونا یقینی ہوتا ہے۔ جس بارے میں ہم بحث کر رہے ہیں اس کی مثال یہ ہے کہ اصل شریعت پر ایمان رکھنا اور وہ یہ ہے کہ اُخروی سعادت کا ایک سبب ہے جوکہ عبادت ہے اور بدبختی کا بھی ایک سبب ہے جو گناہ ہے۔ یہی اصل شریعت پر ایمان لانا ہے اور اس کا حصول ضروری ہے چاہے تحقیق کے ساتھ ہو یا تقلید کے ذریعے اور یہ دونوں باتیں ایمان سے ہیں۔
دوسری بات:
	یہ بھی ضروری ہے کہ مریض کسی معیَّن طبیب پر یقین رکھتا ہو کہ وہ طب کا خوب جاننے والا اور ماہر ہے، جو کچھ بتاتا ہے سچ کہتا ہے دھوکے اور جھوٹ سے کام نہیں لیتا۔ کیونکہ جب تک مریض کو طبیب کی مہارت کا یقین نہ ہوگا تو خالی طب پر یقین رکھنا سود مند نہ ہوگا۔
	ہمارے موضوع کے مطابق اس کی مثال یہ ہے کہ بندہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سچا ہونے کا یقین اور ایمان رکھتا ہو کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو بھی  فرماتے ہیں وہ حق اور سچ ہے اس میں جھوٹ اور خلاف واقع بات نہیں۔