Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
150 - 882
 ہو۔ اسی نوجوان کے بارے میں نبیوں کے سردار، دوعالم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تَعَجَّبَ رَبُّــکَ مِنۡ شَابٍّ لَّـیۡسَتۡ لَـہٗ صَبۡوَةٌ یعنی تیرے رب عَزَّ  وَجَلَّ کو وہ نوجوان پسند ہے جو خواہش کی پیروی سے بچتا ہو۔“ (1 )  اس قسم کے نوجوان نادر ہیں بہت کم پائے جاتے ہیں۔
٭…دوسری قسم: ان لوگوں کی ہے جو گناہوں کے ارتکاب سے خالی نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کی مزید دو قسمیں ہیں:(۱)گناہ پر ڈٹے رہنے والے (۲)توبہ کرنے والے۔
دل کے علاج کا طریقہ:
	ہم گناہوں پر اصرار (یعنی ڈٹے رہنے) کا علاج اور اس سلسلے میں دوا کا ذکر کریں گے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ کی شفا دوا سے ہوتی ہے اور دوا سے وہی واقف ہوتا ہے جو بیماری سے آگاہ ہو کیونکہ دوا نام ہے مرض کے اسباب کی ضد کا تو کسی بھی سبب سے آنے والی ہر بیماری کا علاج اس سبب کو دور کرنا، اسے ختم کرنا اور باطل کرنا ہے اور کسی بھی شے کا بطلان اس کی ضد سے ہوتا ہے اور گناہوں پر اصرار کا سبب فقط غفلت اور شہوت ہے اور غفلت کی ضد علم ہے جبکہ شہوت کی ضد ان اسباب کے ختم ہونے پر صبر کرنا ہے جو شہوت کے مُحَرِّک ہیں اور غفلت خطاؤں کی جڑ ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: 
وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾ لَاجَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۰۹﴾ (پ۱۴،النحل:۱۰۸، ۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی غفلت میں پڑے ہیں آپ ہی ہوا کہ آخرت میں وہی خراب ہیں۔
	معلوم ہوا کہ توبہ کی دوا ایک ایسا معجون ہے جو علم کی مٹھاس اور صبر کی کڑوا ہٹ سے مرکب ہو جس طرح سِکَنْج بِیْن شکر کی مٹھاس اور سرکے کی تُرشی سے مل کر بنتی ہے اور سرکہ اور شکر کا یہ مجموعہ صَفَرا کے اسباب کے خاتمہ کا باعث ہے۔ تو جو شخص گناہوں پر اصرار کی بیماری میں مبتلا ہو اسے چاہئے کہ دل کے علاج کا طریقہ سمجھ لے۔ چنانچہ اس دوا کی اصل دو چیزیں ہیں:(۱)علم (۲)صبر۔ ان دونوں کی وضاحت ضروری ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	گناہوں پر اصرار کے خاتمہ کے لئے ہر علم نفع بخش ہے یا اس کے لئے کوئی خاص علم ہے؟جواب: تمام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عقبة بن عامر،۶/ ۱۳۴،حدیث : ۱۷۳۷۶