کی سی ہے جو کتابت سے عاجز ہوتا ہے اور کہتا ہے مجھے جُلاہے کے پیشے کی مذمت سے انکار نہیں لیکن یہ کاتب کے مقابلے میں مذموم ہے خاکروب کے مقابلے میں نہیں لہٰذا جب میں کتابت سے عاجز ہوں تو جُلاہے کے پیشے کو نہیں چھوڑسکتا۔
ایک وسوسے کا علاج:
حضرت سیِّدَتُنا رابعہ بصریہ عدویہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے فرمان ”ہمارا استغفار خود کئی استغفار کا محتاج ہے“ سے ہرگز تم یہ گمان نہ کرنا کہ انہوں نے (غافل شخص کے) زبانی ذکر کی مذمت کی ہے بلکہ انہوں نے دل کی غفلت کی مذمت کی ہے تو مزید استغفار کی حاجت دل کی غفلت کی وجہ سے ہے نہ کہ زبان کی حرکت کی وجہ سے اور اگر انسان زبانی استغفار سے بھی خاموش ہوجائے تو اب ایک نہیں بلکہ دوہرے استغفار کا محتاج ہوگا۔ تمہیں چاہئے کہ جب کسی کی مذمت یا تعریف کی جائے تو اسے اچھی طرح سمجھو ورنہ ہمیشہ سچ کہنے والی ذات حضور نبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس حدیث کا درست مطلب سمجھ نہ پاؤگے ”حَسَنَاتُ الۡاَبۡرَارِ سَیِّئَاتُ الۡمُقَرَّبِیۡن یعنی نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے لئے خطا کا درجہ رکھتی ہیں۔“
ایسی باتوں کی حقیقت اسی وقت واضح ہوتی ہے جب انہیں دوسری باتوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے سمجھا جائے۔ بغیر نسبت ایسی باتوں سے گریز کرنا چاہئے بلکہ مناسب تو یہ ہے کہ عبادات اور گناہوں کے ذرّات کو بھی حقیر نہ جانا جائے۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تین چیزیں تین چیزوں میں چھپا رکھی ہیں اپنی رضا کو اپنی اطاعت میں تو کسی نیکی کو حقیر نہ جانو ممکن ہے اس کی رضا اسی میں ہو اور اپنے غضب کو اپنی نافرمانی میں پوشیدہ رکھا ہے تو کسی گناہ کو ہلکا نہ جانو ممکن ہے اس کا غضب اسی میں ہو اور اپنی ولایت کو اپنے بندوں میں چھپا رکھا ہے تو کسی کو حقیر نہ جانو ممکن ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی ہو۔“ مزید فرمایا کہ قبولیت کو دعا میں پوشیدہ رکھا ہے تو دعا کبھی نہ چھوڑو قبولیت کی گھڑی کوئی بھی ہوسکتی ہے۔
چوتھارکن: توبہ کی دوا اور گناہوں پر اصرار کا علاج
جان لو کہ لوگوں کی دو قسمیں ہیں:
٭…پہلی قسم: وہ نوجوان جو خواہش کا پیروکار نہ ہو اور اس کی تربیت نیکی کرنے اور برائی سے بچنے پر ہوتی