نیکیوں میں سبقت کرنے والے:
جو لوگ سبقت کرنے والے ہیں وہ کہتے ہیں: اے لعنتی! تو نے سچ کہا لیکن تیرا مقصود باطل ہے۔ میں تجھے دو مرتبہ سزا دوں گا اور دو طریقوں سے تجھے ذلیل کروں گا۔ میں زبان کی حرکت کے ساتھ ساتھ دل کو بھی شریک کروں گا۔ یہ اس شخص کی طرح ہے جو شیطان کے زخموں کا علاج ان پر نمک چھڑک کر کرتا ہے۔
خود پر ظلم کرنے والے:
جولوگ خود پر ظلم کرتے اور دھوکے کا شکار ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان باریک باتوں سے واقف ہیں یوں وہ دل کے اخلاص سے عاجز ومحروم ہوجاتے ہیں اور زبان کو ذکر کا عادی بنانا چھوڑ دیتے ہیں پس وہ شیطان کی مدد کرتے ہیں اور اس کے دھوکے کی رسی سے لٹک جاتے ہیں اور اس طرح ان کے اور شیطان کے درمِیان مُوافَقَت ومُشارَکت ہوجاتی ہے۔ جیساکہ کہا گیا ہے:
وَافَقَ شَنُّ طَبَـقَہٗ وَافَقَہٗ فَاعْتَـنَـقَہٗ
ترجمہ:مشکیزے کے منہ کو بند کرنے والی چیز اس کے موافق ہوگئی تو اس نے اسے گلے میں لٹکالیا۔
میانہ روی اختیار کرنے والے:
جہاں تک میانہ روی اختیار کرنے والوں کی بات ہے تو یہ لوگ شیطان کو ذلیل کرنے کے لئے اپنے دل کو زبان کے ساتھ شریک نہیں کرپاتے اور جانتے ہیں کہ محض زبانی ذکر دل کی نسبت ناقص ہے لیکن خاموشی اور فضول باتوں کے مقابلے میں افضل ہے۔ یہ لوگ زبانی ذکر برقرار رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ بھلائی کی عادت بنانے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے دلوں کو زبان کے ساتھ شریک کردے۔
تین شخصوں کی مثالیں:
سبقت کرنے والے کی مثال اس جُلاہے(یعنی کپڑا بُننے والے) کی سی ہے جس کے کام کی مَذمَّت کی جائے تو وہ اسے ترک کردے اور کاتِب بن جائے۔ شیطان کے بہکاوے میں رہ کر خود پر ظلم کرنے والا اس جُلاہے کی طرح ہے جو اپنا پیشہ چھوڑ کر خاکروب(بھنگی) بن جائے۔ مِیانہ روی اختیار کرنے والے کی مثال اس شخص