Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
147 - 882
 اِسْتَعَاذَہ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے پناہ مانگنے کی عادت بنالیتا ہے جونہی وہ کسی شریر کے بُرے افعال کے بارے میں سنتا ہے تو زبان کی سبقت کی وجہ سے ”نَـعُوْذُ بِاللہ“ کہتا ہے اور جسے فضول بات کہنے کی عادت ہوگی وہ کہے گا ”اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت ہو“۔
	ان کلمات میں ایک گناہ کا باعث ہے جبکہ دوسرا سلامتی کا اور سلامتی کا باعث یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی زبان کو اچھی باتوں کا عادی بنایا۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ان فرامین سے یہی مراد ہے:
اِنَّ اللہَ لَایُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ۙ (پ۱۱،التوبة:۱۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک اللہ نیکوں کا نیگ (اَجر وانعام) ضائع نہیں کرتا۔
	مزید ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنۡ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۴۰﴾ (پ۵،النسآء:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔
	غور کرو! کس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے نیکی کو بڑھایا کہ غفلت کی حالت میں بھی استغفار کو زبان کی عادت بنادیا حتّٰی کہ اس عادت کے ذریعے غیبت، لعنت اور فضول باتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے نافرمانی کے شر کو دور فرمادیا۔ یہ تو ایک معمولی نیکی کا دنیا میں بڑھنا ہے اور آخرت کا بڑھنا تو بہت بڑا ہے اگر لوگ جانیں۔
شیطان کا مکر اور لوگوں کی اقسام:
	تمہیں محض آفات کا خیال کرکے عبادات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس طرح عبادات میں تمہاری رغبت کم ہوجائے گی۔ یہ ایک چال ہے جسے شیطان اپنی لعنت سے رواج دیتا اور دھوکے میں مبتلا لوگوں کو پھنساتا ہے اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ وہ روشن دل ہیں نیز اسرار ومخفی باتوں کے جاننے والے سمجھ دار ہیں بھلا دل کے غافل ہوتے ہوئے صرف زبان سے ذکر کرنے میں کیا بھلائی ہے۔
	شیطان کے اس مکر وفریب کے حوالے سے لوگوں کی تین قسمیں ہیں:(۱)نیکیوں میں سبقت کرنے والے۔(۲)خود پر ظلم کرنے والے۔(۳)میانہ روی اختیار کرنے والے۔