برائیوں والے پلڑے سے بلند ہوجاتا ہے۔ تو تم عبادات کے ذرّات کو چھوٹا سمجھ کر انہیں ترک مت کرو اور گناہوں کے ذرّات کو بھی ہلکا جان کر ان میں مبتلا نہ ہو اور اس بےوقوف عورت کی طرح مت ہوجاؤ جو سوت کاتنے سے اس لئے غفلت کرتی ہے کہ وہ بیک وقت ایک دھاگے سے زیادہ نہیں کات سکتی اور کہتی ہے کہ ایک دھاگے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا اور کپڑا بننے میں اس ایک دھاگے کی کیا حیثیت؟ حالانکہ اس بےوقوف کو معلوم نہیں کہ دنیا کے تمام کپڑے ایک ایک دھاگا جمع ہو کر ہی بنے ہیں اور کائنات کے تمام اجسام اس قدر وسعت کے باوجود ایک ایک ذرّہ سے مل کر بنے ہیں۔ پس عاجزی کا اظہار اور دل سے مغفرت طلب کرنا ایک ایسی نیکی ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں بالکل ضائع نہیں ہوتی۔
غفلت میں بھی ذکر فضول نہیں:
میں کہتا ہوں (یعنی سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی) کہ زبان سے استغفار بھی نیکی ہے کیونکہ غفلت کی حالت میں استغفار کرتے ہوئے زبان کو حرکت دینا کم از کم اس گھڑی میں کسی مسلمان کی غیبت یا فضول کلام سے تو بہتر ہے بلکہ خاموش رہنے سے بھی بہتر ہے۔ زبان سے استغفار کی فضیلت صرف خاموشی کے مقابلے میں ہے دل کے عمل کے مقابلے میں اس کا مقام کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی نے شیخ حضرت ابوعثمان سعید بن سلام مغربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے کہا کہ ”بعض اوقات میری زبان پر ذکر اور تلاوتِ قرآن جاری ہوتا ہے مگر میرا دل اس سےغافل ہوتا ہے۔“ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہارے ایک عضو کو اچھے کام میں مصروف رکھا، اسے ذکر کا عادی بنایا، برائی سے محفوظ رکھا اور فضول کاموں کا عادی نہ بنایا۔“ انہوں نے جو کچھ ذکر فرمایا وہ حق ہے۔
اچھی بری عادات کی مثالیں:
اگر بندہ اعضاء کو نیک کام کی عادت ڈال دے حتّٰی کہ وہ اس کی فطرت بن جائے تو بندہ تمام گناہوں سے چھٹکارا پاسکتا ہے۔ جو شخص اپنی زبان کو استغفار کا عادی بناتا ہے جب وہ دوسرے سے جھوٹ سنتا ہے تو اس کی زبان اپنی عادت کی طرف سبقت کرتی ہے اور وہ فوراً ”اَسْتَغْفِرُاللہ“ کہتا ہے اور جس انسان کو فضول باتوں کی عادت ہو اس کی زبان سے نکلتا ہے ”تم کتنے بےوقوف ہو“ اور ”تم نے کتنا بڑا جھوٹ بولا ہے“ اور جو شخص