Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
145 - 882
اَلتَّآئِبُوۡنَ الْعٰبِدُوۡنَ الْحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَالنَّاہُوۡنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَ الْحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللہِ ؕ (پ۱۱،التوبة:۱۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:توبہ والے عبادت والے سراہنے والے روزے والے رکوع والے سجدہ والے بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے۔
	اور فرمایا: حبیب وہی ہوتا ہے جو اپنے محب کے ناپسندیدہ کاموں میں نہیں پڑتا۔
	مقصود یہ بتانا ہے کہ توبہ کے دو فائدے ہیں۔
توبہ کے دو فائدے:
٭…پہلا فائدہ: توبہ گناہوں کو مٹادیتی ہے حتّٰی کہ بندہ یوں ہوجاتا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
٭…دوسرا فائدہ: درجات کا حصول ہے یہاں تک کہ بندہ محبوب بن جاتا ہے۔
ایک ذرّہ بھی اثر کرتا ہے:
	توبہ کے سبب گناہ مٹنے کے کئی درجات ہیں۔ بعض توبہ اصلاً گناہ کو مٹادیتی ہیں اور بعض سے گناہ ہلکے ہوجاتے ہیں اور یہ تفاوت توبہ کے درجات میں تفاوُت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ابتدائی درجات میں دل سے استغفار کرنے اور نیکیوں کے ذریعے گناہوں کا تدارُک کرنے سے اگرچہ گناہوں پر اِصْرار ختم نہیں ہوتا لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ توبہ فائدہ سے بالکل خالی ہے۔ تو ہرگز یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ ان درجات کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے بلکہ اہْلِ مشاہدہ اور ارباب قلوب کو ان کے نفع کا یقین ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمان سچا ہے:
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾ (پ۳۰،الزلزال:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:تو جو ایک ذر ّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا۔
	نیکی کا ایک ذرّہ بھی اسی طرح اثر کرتا جیساکہ ترازو میں ڈالا جانے والا جَو کا ایک دانہ مؤثر ہوتاہے اور اگر پہلا دانہ اثر سے خالی ہوتا تو دوسرا بھی اس کی مثل ہوتا اور اس طرح کئی ذرّات اٹھانے کے باوجود ترازو میں جھکاؤ نہ ہوتا اور یہ بات یقیناً محال ہے بلکہ نیکیوں والا پلڑا نیکیوں کے ذرّات کے باعث بھاری ہوجاتا ہے اور