Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
144 - 882
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف رجوع کرے اگر گناہ کربیٹھے تو یوں کہے:”اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ میرا پردہ رکھنا۔“
 گناہ کے بعد کہے ’’اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میری توبہ قبول فرما“ اور جب توبہ سے فارغ ہو تو کہے ”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے گناہوں سے بچا“ پھر جب نیک عمل کرے تو کہے ”اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میرا عمل قبول فرم۔“
توبہ کے متعلق سیِّدُنا سہل رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا فرمان:
	حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے گناہوں کو مٹانے والے استغفار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: استغفار کا پہلا درجہ ”اِسْتِجَابَة یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہونا“ ہے پھر ”اِنَابَة یعنی رجوع“ اور پھر ”توبہ“ہے۔
	”اِسْتِجَابَة“(ظاہری)اعضاء کا عمل ہے”اِنَابَة“دل کا عمل ہے اور”توبہ“سے مراد بندے کا اپنے مولا عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف یوں متوجہ ہونا ہے کہ مخلوق کو چھوڑدے پھر اپنی خطاؤں کی بخشش کا سوال کرے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں سے غافل رہنے اور شکر نہ کرنے پر بھی استغفار کرے۔ اس وقت اسے بخش دیا جائےگا اور مالک عَزَّ  وَجَلَّ کے پاس اس کا ٹھکانا ہوگا۔ اس کے بعدبالترتیب درج ذیل امور بجالائے:تنہائی،ثابت قدمی،بیان وفکر، معرفت،مناجات،خالص دوستی،باہمی تعلق اورراز کی گفتگو جسے ”خُلَّة“ کہتے ہیں اور یہ صفت اسی بندے کے دل کو حاصل ہوتی ہے جس کی غذا ”علم“قوت”ذکر“زادِراہ”رِضا“اوردوست”توکل“ہو۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایسے شخص کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے،بارگاہِ الٰہی میں اس کابلندمقام ومرتبہ حاصل ہوتا ہے جیساعرش اٹھانے والے فرشتوں کوحاصل ہے۔
”اَلتَّآئِبُ حَبِيۡبُ اللہ“کا کیا مطلب ہے ؟
	حضرت سیِّدُناسہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے اس حدیْثِ پاک”اَلتَّآئِبُ حَبِيۡبُ اللہ یعنی توبہ کرنے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا محبوب بندہ ہے“(1) کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:بندہ اس وقت محبوب بنتا ہے جب اس میں وہ تمام شرائط پائی جائیں جن کا ذکر اس آیتِ مُبارَکہ میں ہوا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…نوادر الاصول للحکیم  ترمذی،الاصل السادس والمائتان،۲/ ۷۶۰،حدیث:۱۰۳۰