Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
143 - 882
وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ ؕ وَمَاکَانَ اللہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُوۡنَ ﴿۳۳﴾ (پ۹،الانفال:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کا کام نہیں کہ انھیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو اور اللہ انھیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں۔
	(حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری کے بعد)بعض صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرمایا کرتے کہ ہمارے لئے دو پناہیں تھیں ایک چلی گئی یعنی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا (حیات ظاہری کے ساتھ) ہمارے درمیان موجود ہونا اور استغفار (یعنی دوسری پناہ) ہمارے پاس موجود ہے اگر یہ بھی چلی جائے تو ہم ہلاک ہوجائیں۔
	تو ہم (یعنی سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی) کہتے ہیں کہ جھوٹے لوگ جو استغفار کرتے ہیں وہ محض زبان سے کرتے ہیں ان کا دل اس میں شریک نہیں ہوتا جیسے عام طور پر غافل انسان عادتاً کہہ دیتا ہے ”اَسْتَغْفِرُ اللہ“اسی طرح وہ جہنَّم کاذکرسن کرکہہ دیتاہے”نَـعُوْذُ بِاللہ مِنْھَایعنی جہنَّم سے ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں“حالانکہ اس کے دل میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا یہ محض زبان کی حرکت ہوتی ہے اور اس سے کوئی دائمی نفع نہیں ہوتا۔ ہاں! اگر انسان بارگاہِ خداوندی میں دل کی عاجزی اور انکساری کے ساتھ استغفار کرے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں سچے ارادے، خلوصِ نیت اور قلبی رغبت کے ساتھ مغفرت کا سوال کرے تو یہ نیکی ہے جو اس بات کی صلاحیت رکھتی ہے کہ اس کے سبب برائی کو دور کیا جائے۔
	استغفار کی فضیلت میں جو روایات آئی ہیں وہ اسی مفہوم پر محمول ہیں یہاں تک کہ دوجہاں کے سلطان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان رحمت نشان ہے:”مَا اَصَرَّ مَنِ اسۡتَغۡفَرَ وَ لَوۡ عَادَ فِی الۡیَوۡمِ سَبۡعِیۡنَ مَرَّةً یعنی جو شخص استغفار کرتا ہے وہ گناہ پر اصرار کرنے والا نہیں اگرچہ دن میں 70مرتبہ گناہ کرے۔“(1) اس سے مراد دل سے استغفار کرنا ہے۔
ابتدائی درجہ بھی فائدے سے خالی نہیں:
	توبہ واستغفار کے کئی درجات ہیں اور اس کے ابتدائی درجات بھی فائدے سے خالی نہیں اگرچہ انسان ان کے انتہائی درجات تک نہ پہنچ سکے۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا کہ بندہ ہرحال میں اپنے مولاعَزَّ  وَجَلَّ کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کی سب سے اچھی حالت یہ ہے کہ ہر شے میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الوتر، باب فی الاستغفار،۲/ ۱۲۰،حدیث:۱۵۱۴