ایک گناہ کے بدلے آٹھ اعمالِ صالحہ:
روایات سے معلوم ہوتا ہے ایک گناہ کے بعد جب آٹھ اعمال صالحہ کیے جائیں تو اس کی بخشش کی امید ہوتی ہے۔ چار اعمال کا تعلق دل سے ہے:(۱)توبہ یا توبہ کا عزم (۲)گناہ سے باز رہنے کی چاہت (۳)عذاب ہونے کا خوف (۴)مغفرت کی امید۔ چار اعمال کا تعلق اعضاء سے ہے:(۱)دو رکعت نماز ادا کرنا (۲)70مرتبہ استغفار کرنا اور 100مرتبہ ”سُبْحَانَ اللہ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ(1)“ پڑھنا (۳)صدقہ کرنا (۴)روزہ رکھنا۔
بعض روایات میں (گناہ معاف ہونے کی شرط یہ مذکور) ہے کہ اچھی طرح وضو کرکے مسجد میں جائے اور دو رکعت نماز پڑھے۔(2)
بعض روایات میں ہے کہ چار رکعت نماز پڑھے۔(3)
پوشیدہ کے بدلے پوشیدہ اور علانیہ کے بدلے علانیہ:
ایک حدیْثِ پاک میں ہے:”اِذَا عَمِلۡتَ سَیِّئَةً فَاَ تْبِعۡھَا حَسَنَةً تَکۡفُرُھَا اَلسِّرَّ بِالسِّرِّ وَالۡعَلَانِیَةَ بِالۡعَلَانِیَةِ یعنی جب تم سے کوئی برائی سرزد ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرو وہ گناہ کو مٹادے گی پوشیدہ (عمل) کے بدلے پوشیدہ اور علانیہ کے بدلے علانیہ۔“(4)
اسی لئے کہا جاتا ہے کہ صَدَقَةُ السِّرِّ تَکۡفُرُ ذُنُوۡبَ اللَّیۡلِ وَصَدَقَةُ الۡجَھۡرِ تَکۡفُرُ ذُنُوۡبَ النَّھَارِ یعنی پوشیدہ صدقہ رات کے گناہوں کو مٹاتا ہے اور ظاہری صدقہ دن کے گناہوں کو مٹاتا ہے۔
حدیْثِ پاک میں ہے کہ ایک شخص نے سرکاردوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:اِنِّی عَالَجۡتُ اِمۡرَأَةً فَأَصَبۡتُ مِنۡهَا كُلَّ شَىۡءٍ اِلَّا الۡمَسِيۡسَ فَاقۡضِ عَلَىَّ بِحُكۡمِ اللہ تَعَالٰى یعنی میں نے ایک عورت سے زنا کے علاوہ سب کچھ کیا ہے مجھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم جاری کیجئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اَوَ مَاصَلَّيۡتَ مَعَنَا صَلَاةَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یعنی پاکی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو جو عظمت والا اور تعریف کے لائق ہے۔
2…سنن ابن ماجہ، کتاب اقامة الصلوة، باب ماجاء فی ان الصلوة کفارة،۲/ ۱۶۴،حدیث:۱۳۹۵
3…مسندالبزار،حدیث عبداللہ بن عمروبن عاص،۶/ ۲۷۳،حدیث:۲۳۸۹
4…المعجم الکبیر،۲۰/ ۱۷۵،حدیث : ۳۷۴،بتغیر