Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
140 - 882
 کرچکے ہیں(1)اور اگر غلبہ شہوت کی وجہ سے اس کا نفس ترکِ گناہ کے ارادے پر اس کا ساتھ نہ دے تو وہ دو واجب باتوں میں سے ایک سے عاجز آگیا لیکن اسے دوسرے واجب کو ترک نہیں کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ برائی کے مقابل نیکیاں بڑھائے تاکہ اس سے گناہ مٹا دیا جائے۔ یہ شخص ان لوگوں میں سے ہوگا جو اچھے اور برے دونوں اعمال کرتے ہیں۔
مختلف اعضاء کی نیکیاں:
	جہاں تک نیکیوں کا تعلق ہے جو گناہ کا کفارہ بنتی ہیں تو ان کا تعلق دل سے ہوتا ہے یا زبان سے یا دیگر اعضاء سے۔ جس عضو سے گناہ سرزد ہو یا گناہ کے اسباب مہیّا ہوں اسی سے نیکی کی جائے۔
دل کی نیکی:
	اگر گناہ دل سے ہو تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ گڑگڑاتے ہوئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں مغفرت ومعافی کا سوال کرے اور بھاگے ہوئے غلام کی طرح ذلت کا اظہار کرے حتّٰی کہ سب لوگوں پر اس کی ذلت وعاجزی ظاہر ہوجائے اور یہ اس وقت ہوگا کہ لوگوں کے درمیان تکبر نہ کرے کیونکہ بھاگنے والے گناہ گار غلام کو حق نہیں پہنچتا کہ دوسرے غلاموں پر بڑائی کا اظہار کرے۔ اسی طرح دل میں عبادت اور مسلمانوں پر خیرات کا عزم وارادہ کرے۔
زبان کی نیکی:
	گناہ کا تعلق اگر زبان سے ہو تو اس کاکفارہ یہ ہے کہ ظلم کا اعتراف کرے اور یوں استغفار کرے:”رَبِّ اِنِّی ظَلَمۡتُ نَفۡسِیْ وَعَمِلۡتُ سُوۡأً فَاغۡفِرۡلِیۡ ذُنُوۡبِی یعنی اے میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور برا عمل کیا اے مولا عَزَّ  وَجَلَّ! میرے گناہ بخش دے“ اور کثرت سے استغفار کرے اور استغفار کے تمام طریقوں پر عمل کرے جیساکہ ہم نے ”ذِکْرُاللہ اور دُعاؤں کے بیان“میں طریقے بیان کیے ہیں۔
	اگر گناہ (دل اور زبان کے علاوہ) دیگر اعضاء سے سرزد ہو تو ان کا کفارہ یہ ہے کہ نیکیاں کرے، صدقہ دے اور مختلف عبادات بجالائے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یہ طریقہ صفحہ107پر” گناہ کے مخالف نیکی سے گناہ مٹاؤ“ کے تحت مذکور ہے۔