ذریعے اس شخص پر واضح ہوتا ہے جس کی بصیرت کھل چکی ہو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نورِایمان سے اس کا سینہ کھول دیا ہو یہاں تک کہ وہ اس نور کی بدولت جہا لت کے اندھیروں میں چلنے پر قادر ہوجائے اور قدم قدم پر کسی راہ نما کی ضرورت نہ رہے کیونکہ راہ چلنے والا یاتو نابینا ہوتا ہے کہ قدم اٹھانے میں راہ نما کا محتاج ہوتا ہے یا انکھیارا ہوتا ہے کہ راستہ دیکھ کر خود چلنا شروع کردیتا ہے۔
دین کے معاملہ میں بھی لوگ اسی طرح منقسم ہیں کہ بعض تقلید سے ایک قدم بھی آگے بڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے، وہ ہر قدم پر قرآن وسنت سے کوئی نص سننے کے محتاج ہوتے ہیں اور کبھی اس میں کوئی مشکل درپیش ہوتو حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سیر مختصر ہوتی ہے اگرچہ ان کی زندگی طویل اور کوشش زیادہ ہو۔ یہ لوگ خوف کے سبب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے سعادت مند ہوتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے سینے اسلام کے لئے کھول دیتا ہے، وہ اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے نور سے منوّر ہوتے ہیں، مشکل سے مشکل راستے پر چلنے اور سخت سے سخت گھاٹیاں طے کرنے کے لئے معمولی سے اشارے سے آگاہ ہوجاتے ہیں، ان کے دلوں میں نورِقرآن اور نورِایمان جگمگاتا ہے تو نورِباطن کی شدت کے سبب انہیں ادنیٰ بیان بھی کافی ہوتا ہے اور وہ نور ایسی شان والا ہے کہ قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اٹھے اگرچہ اسے آگ نہ چھوئے اور اگر آگ اسے چھولے تو وہ نورٌ علیٰ نور ہوجائے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے چاہتا ہے اسے اپنے نور کی راہ بتاتا ہے اور ایسے لوگ ہر واقعہ میں کسی منقول نص کے محتاج نہیں ہوتے۔
نورِ بصیرت والے کی توبہ:
نور کا حامل آدمی جب توبہ کے وُجوب کو پہچاننا چاہتا ہے تو اوّلاًنورِبصیرت سے توبہ کی حقیقت کو دیکھتا ہے پھر وجوب کے معنی میں غور وفکر کرتا ہے پھر وجوب کے معنی اور توبہ کو جمع کرتا ہے تو اسے توبہ واجب ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا۔اس طرح کہ واجب کا مطلب اس کے سامنے آتا ہے ”وہ امر جو ابدی سعادت تک پہنچائے اور ہمیشہ کی ہلاکت سے بچائے“ کیونکہ اگر خوش بختی وبدبختی کا تعلق کسی شے کے کرنے یا چھوڑنے سے نہ ہو تو اس شے کا وجوب سے موصوف ہونے کا کوئی معنی نہیں اور یہ جو قول ہے کہ ”فلاں شے واجب کرنے سے واجب ہوگئی“ یہ محض ایک قول ہو کیونکہ جس کام کو اپنانے یا تَرک کرنے سے فی الفور یا بعد میں کوئی غرض